تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 20 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 97ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 58 ہزار 334 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 7586 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 13 فیصدرہی،این سی اوسی

'ڈسکہ الیکشن سے متعلق الیکشن کمیشن نے جو بھی فیصلہ کیا قبول کریں گے'

Published On 23 February,2021 01:08 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) شبلی فراز نے کہا ہے کہ فائرنگ اور دھونس دھاندلی نون لیگ کا طرہ امتیاز ہے، تحریک انصاف کو اداروں پر یقین ہے، ڈسکہ الیکشن سے متعلق الیکشن کمیشن نے جو بھی فیصلہ کیا قبول کریں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی 23 پولنگ سٹیشن پر دوبارہ الیکشن کی درخواست پر وزیراعظم نے این اے 75 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا چیلنج قبول کیا، دوبارہ انتخاب کرانے کا فیصلہ ہم نے نہیں الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، الیکشن کمیشن آزاد اور خودمختار ادارہ ہے، ہم اداروں پر یقین رکھتے ہیں جبکہ یہ اغوا، دھاندلی اور دھونس پر یقین رکھتے ہیں۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ فائرنگ، دھونس، دھاندلی مسلم لیگ ن کا طرہ امتیاز ہے، کرپشن کو پروان چڑھانے والے سینیٹ الیکشن میں خفیہ ووٹنگ چاہتے ہیں، یہ نوسرباز مختلف روپ میں آ جاتے ہیں، ان کی منافقت سے بھری سیاست اور تاریخ ہے، عوام جانتے ہیں کہ اوپن ووٹنگ کی مخالفت کرنیوالوں کے عزائم کیا ہیں، دونوں پارٹیوں کی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے، مسلم لیگ ن ہمیشہ دھونس اور دھاندلی کی سیاست کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ہمارا ووٹ بینک اوپر جا رہا ہے، ان کا ووٹ بینک نیچے جا رہا ہے، نوشہرہ میں ہمارے امیدوار نے بھی اپنے اعتراضات جمع کرائے ہیں، عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ کے طریقہ کار کو رائج کرانا چاہتے ہیں، حفیظ شیخ انہیں اسلام آباد سے شکست دیں گے۔

وزیراعظم نے 20 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی پیشکش کی: شبلی فراز

قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے 20 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی پیشکش کی، آزادانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کی جدوجہد کا مظہر ہے، وزیراعظم پر انگلیاں اٹھانے والے شفافیت کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کا دوغلا پن قوم کے سامنے کھل کر عیاں ہو چکا ہے۔