تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن آج ہوں گے
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے

این سی او سی کی ہدایت، قومی احتساب بیورو نے مریم نواز کی پیشی ملتوی کردی

Published On 25 March,2021 08:19 pm

لاہور: (دنیا نیوز) قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کو 26 مارچ کے روز طلب کیا تھا، تاہم کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر اسے اب ملتوی کر دیا گیا ہے۔

ترجمان نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی ہدایات اور مفاد عامہ کے پیش نظر مریم نواز شریف کی پیشی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیب ترجمان کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو سیکیورٹی اقدامات جلد ختم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ مریم نواز شریف کی پیشی کی نئی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کی وابستگی صرف اور صرف ریاست پاکستان اور عوام سے ہے۔ نیب کا کسی سیاسی گروہ یا جماعت سے کسی قسم کاتعلق نہیں ہے۔ ایسے تمام اقدامات کی نفی کرتے ہیں جن میں ادارے کو دباؤ میں لانے کیلئے حربوں کا استعمال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نوازکی 26 مارچ کو نیب میں پیشی،سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دیدی گئی

خیال رہے کہ لیگی رہنما مریم نواز شریف کی نیب میں پیشی کے سلسلے میں سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دیتے ہوئے نیب دفتر کے باہر کنٹینرز لگا دیئے تھے۔

سیکیورٹی امور سرانجام دینے کیلئے 2 ہزار کے لگ بھگ پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے واٹر کینن بھی سٹینڈ بائی پر رکھا گیا تھا۔

اس کے علاوہ رینجرز اور پولیس اہلکاروں کی نیب دفتر کے باہر اور اندر ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ آج لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی پیشی پر کارکنوں کو نیب آفس لانے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

جسٹس سرفراز ڈوگر نے قرار دیا تھا کہ لاکھوں لوگ بھی آ جائیں تو ریاست کے لیے سنبھالنا مشکل نہیں ہوتا، نیب قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کر سکتا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت مریم نواز کو اکیلے نیب میں پیش ہونے کی ہدایت کرے اور کارکنوں کو ساتھ لانے سے روکنے کے احکامات جاری کرے۔

جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ یہ تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ حالات کنٹرول کرے، نیب لاہور ہائیکورٹ سے کیوں یہ ریلیف مانگ رہا ہے؟ عدالت اس معاملے میں کیوں پڑے یہ تو سیاسی معاملہ ہے۔

نیب کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ مریم نواز اتنی بڑی جماعت کی نائب صدر ہیں اور وہ ایسے بیانات دے رہی ہیں۔ ان کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ مشکلات پیدا کریں گی۔

جسٹس سرفراز ڈوگر نے قرار دیا کہ نیب کے پاس ادارے موجود ہیں، ان کی مدد لیں اور حالات کنٹرول کریں۔ لاکھوں لوگ بھی آئیں تو ریاست کے لیے سنبھالنا مشکل نہیں ہوتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی پر قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز پر کارکنوں کو ساتھ لانے پر پابندی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چیئرمین نیب کی درخواست نمٹا دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ووٹ کی پرچی جعلی حکومت کے لیے موت کا پروانہ ہے، مریم نواز شریف

ادھر مریم نواز شریف نے ایک بار پھر حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین سال عوام کا استحصال کرنے والے عوام میں جانے سے دڑ گئے، ووٹ کی پرچی جعلی حکومت کے لیے موت کا پروانہ ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‏ڈسکہ الیکشن ملتوی ہونے پر خوشیاں منانے والے جانتے ہیں کہ الیکشن تو ہونا ہے، عوام نے ووٹ تو ڈالنا ہے۔

مریم نوز نے لکھا کہ کیوں ڈرتے ہو عوام سے؟ کیوں ڈرتے ہو ووٹ سے؟ کیوں ڈرتے ہو یوم حساب سے؟ اس لیے کہ عوام تم سے بیزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کبھی عدالت جاتے کہ عوام کو ووٹ سے روکو، کبھی عدالت جاتے کہ مریم کے ساتھ عوام کو آنے سے روکو۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ تین سال عوام کا استحصال کرنے والے عوام میں جانے سے ڈر گئے۔ یہ ادارے عوام کے ہیں، عوام کے غیظ و غضب سے تمہیں ادارے نہیں بچا سکتے۔ سلیکٹڈ الیکشن سے بھاگے گا نہیں تو اور کون بھاگے گا؟