تازہ ترین
  • بریکنگ :- ‎ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نےدوسری بارگواہی دی حکومت چورہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ‎عالمی ادارےکی رپورٹ فردجرم ہے،کرپٹ حکمران استعفیٰ دیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ملک ان کی لوٹ مارکامتحمل نہیں ہوسکتا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کرپشن کےعالمی انڈیکس میں پاکستان کا 16درجےاوپرجاناافسوسناک ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- نوازشریف کی ایماندارقیادت میں پاکستان میں کرپشن کم ہوئی تھی،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کرپشن کاشورمچانےوالوں کی چوریاں پکڑی جارہی ہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- بےبنیادالزامات لگانےوالوں کوعالمی ادارےنےکرپٹ قراردیا،شہبازشریف

پیپلز پارٹی اور اے این پی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں: سربراہ پی ڈی ایم

Published On 13 April,2021 04:24 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا ایک اور موقع دیدیا ہے۔

پی ڈی ایم اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی نے اپوزیشن اتحاد سے خود کو علیحدہ کر لیا، اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ دونوں جماعتوں کا استعفیٰ بھیجنا افسوسناک ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری شکایت ہماری بجا ہے، وضاحت طلب کرنا ہمارا حق ہے۔ ہم پیپلز پارٹی اور اےاین پی کو ایک موقع دے رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم دونوں جماعتوں کو سننے کیلئے تیار ہے۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن اتحاد سے رجوع کرے۔ پی ڈی ایم عہدوں کیلئے جھگڑنے کا فورم نہیں بلکہ عظیم مقصد کیلئے قائم کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وضاحت سے کہہ دینا چاہتا ہوں کہ پی ڈی ایم ایک سنجیدہ فورم ہے۔ دونوں جماعتوں کے سیاسی قد کاٹھ کا تقاضا تھا کہ اپنے کولیگز کو واشگاف انداز سے وضاحت کا جواب دیتے۔ وہ سٹئیرنگ کمیٹی اور پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر سکتے تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اتفاق رائے کے فیصلوں کی خلاف ورزی کے نتیجے میں جس جماعت سے شکایت ہے، اس سے وضاحت طلب کرنا تقاضا تھا۔ چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا تعین تحریری طور پراتفاق رائے سے ہوا تھا۔ ہمارے اکثر فیصلے اتفاق رائے سے قوم کے سامنے لائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم 10 جماعتوں کے اتحاد کا نام ہے اور تمام جماعتوں کی اس میں برابر کی حیثیت ہے۔ جو قائدین اجلاس میں نہیں آ سکے، ان سے ٹیلی فون پر رابطہ ہے۔ اتفاق رائے سے ہم بیان جاری کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم سے لاتعلقی، پیپلزپارٹی نے استعفے فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر پہنچا دیئے

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم سے اعلان لاتعلقی کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے تمام عہدوں سے استعفے فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پہنچا دیئے ہیں۔

واضح رہے کہ پی ڈی ایم نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے دوران بلوچستان عوامی پارٹی سے ووٹ لینے پر پیپلزپارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، پیپلز پارٹی نے نوٹس کے رد عمل میں پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

اپوزیشن اتحاد کی اہم جماعت نون لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا پیپلز پارٹی کے پی ڈی ایم سے علیحدگی کے اعلان سے متعلق کہنا تھا کہ جو جماعت اتحاد کا اعتماد کھو بیٹھے، میری نظر میں اس کیلئے کوئی گنجائش نہیں، فیصلہ پی ڈی ایم جماعتیں کریں گی۔ جو جماعت اتحاد میں نہیں رہنا چاہتی تو پھر ان کا اپنا راستہ ہے اور ہمارا اپنا راستہ ہے، ہمارا مقصد نظام کی تبدیلی ہے۔