تازہ ترین
  • بریکنگ :- فیٹف نےحالیہ اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کاجائزہ لیا ،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف نےپاکستان کی نمایاں پیشرفت کوسراہا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان نے2021ایکشن پلان کے7میں سے 4نکات پرعملدرآمد کرلیا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان نےمقررہ مدت سےپہلےخاطرخواہ پیشرفت کی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف پاکستان کااگلاریویوفروری2022 میں کرےگا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستانی وفدکی سربراہی وزیرتوانائی محمدحماداظہرنےکی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان دونوں ایکشن پلانزکےاہداف کےحصول کیلئےپرعزم ہے،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف کاتمام ایکشن پلانزپرپاکستان کے عملدرآمدپراطمینان کااظہار،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف کوایکشن پلانزکےبارےمیں جامع رپورٹ پیش کردی گئی،وزارت خزانہ

طلبہ کو امتحانات دینا پڑیں گے، کسی کو مفت میں گریڈز نہیں دینگے: وزیر تعلیم

Published On 03 May,2021 09:03 pm

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیر تعلیم شفقت محمود نے تمام طلبہ پر واضح کر دیا ہے کہ اب انھیں اگلی جماعت میں جانے کیلئے امتحانات دینا پڑیں گے، وزارت تعلیم کی جانب سے کسی کو بھی مفت میں گریڈز نہیں دیئے جائیں گے۔

یہ بات انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری جانب سے پوری کوشش کی جائے گی کہ جو طلبہ امتحانات میں بیٹھیں انھیں اگلی جماعتوں میں ایڈمیشن دے دیا جائے۔

شفقت محمود نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہونہار بچوں کی محنت کو ضائع کر دیا جائے اس لئے یہ بات طلبہ کو جان لینی چاہیے کہ اب انھیں امتحان دینے کے بغیر پاس نہیں کیا جائے گا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کسی کو اس بات کا علم نہیں کہ عالمی وبا کب تک رہے گی، اس بارے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔

تاہم بچوں کی تعلیم سے جڑے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ طلبہ کو اگلی کلاسوں میں داخلہ مل جائے اور ان کا سال ضائع نہ ہو۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ تعلیم کے معاملے پر جو بھی فیصلے لئے جاتے ہیں، وہ اجتماعی طور پر ہوتے ہیں، میرا اکیلے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، میرے سمیت تمام صوبائی وزرا بھی ایسے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں اور تمام کی مشاورت سے ہی مشترکہ فیصلہ لیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال یہ مسئلہ سامنے آیا تھا کہ اچھے لائق بچوں کو بھی ہمیں سی گریڈ میں پاس کرنا پڑا تھا، گریڈ سسٹم میں گھپلوں کی وجہ سے طلبہ صحیح گریڈ حاصل ہی نہیں کر پائے تھے۔