تازہ ترین
  • بریکنگ :- اتوارکو پشاور میں پارٹی کی کورکمیٹی کا اجلاس بلایا ہے ، عمران خان
  • بریکنگ :- پرسوں تاریخ مل جائے گی تاکہ سب جانے کی تیاری کرلیں،عمران خان
  • بریکنگ :- پرسوں تاریخ دوں گا کہ مارچ کب کرنا ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- 25سے29 مئی کےدرمیان لانگ مارچ کا فیصلہ کروں گا،عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام آباد مارچ میں ہمارا ایک ہی مطالبہ ہوگا،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلی کب تحلیل اور الیکشن کب ہوں گے؟صرف یہی مطالبہ ہوگا،عمران خان

کوئٹہ میں دو بم دھماکے، پولیس کے 2 جوان شہید، اہلکاروں سمیت 22 زخمی

Published On 08 August,2021 08:06 pm

کوئٹہ: (دنیا نیوز) بلوچستان کے صدر مقام اور سب سے بڑے شہر کوئٹہ میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دو بم دھماکوں میں پولیس کے دو جوان شہید ہو گئے ہیں جبکہ اہلکاروں سمیت 22 افراد زخمی ہیں۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور علاقے کا گھیراؤ کر لیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا کوئٹہ کے علاقے یونٹی چوک میں ہوا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو ایمبیولینسوں کے ذریعے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ صورتحال کے پیش نظر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دہشتگردی واقعے کے بعد پورے شہر کی سیکیورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے۔

بعد ازاں کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ایک اور دھماکا ہوا جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شرپسندوں نے بارودی مواد ایک ریڑھی کے نیچے نصب کیا ہوا تھا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سرینا ہوٹل کے قریب ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر صوبے کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

جام کمال نے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے خاتمے کے لیے صوبے کی عوام اپنے فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کوئٹہ بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دھماکے میں پولیس اہلکاروں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔

شیخ رشید نے کہا کہ امن وامان کے لئے بلوچستان حکومت کو مکمل معاونت فراہم کرینگے۔ ملک سے دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ کوئٹہ دھماکا ایک بزدلانہ کارروائی ہے جس میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے پولیس وین پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بہادر سپوتوں نے وطن عزیز کے امن کے لئے اپنا آج قربان کیا۔ شہدا اپنے قیمتی لہو سے امن کی آبیاری کر رہے ہیں۔ مٹھی بھر دہشت گرد قوم کے پختہ عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہماری تمام تر ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں اور زخمیوں کے ساتھ ہیں۔

دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ دہشتگردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ دہشت گرد بلوچستان کا امن خراب کرنا اور خوف وہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔ حکومت پرامن بلوچستان کے حالات خراب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔