تازہ ترین
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 6357 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 13لاکھ 81 ہزار 152 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 82 ہزار 396 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 122 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 556 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 12 لاکھ 69 ہزار 634 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 49 ہزار 595 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 2 کروڑ 46 لاکھ 39 ہزار 942 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 1200 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 66 ہزار 164،سندھ میں 5 لاکھ 29 ہزار 218 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 85 ہزار 683،بلوچستان میں 33 ہزار 975 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 20 ہزار 128،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 510 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 35 ہزار 474 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 12.81 فیصدرہی،این سی اوسی

مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

Published On 09 October,2021 05:18 pm

لاہور: (دنیا نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف)، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔

ملاقات میں نیب آرڈیننس اور نیب چئیرمین کی تقرری کو چیلنج کرنے پر اتفاق کیا گیا، حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے پنجاب کے مختلف شہروں میں جلسے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

پی ڈی ایم سربراہ نے مسلم لیگ ن کا حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خبروں پر تحفظات کااظہارکیا۔

مولانا فضل الرحمن نے شہباز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے الیکشن چوری کیا انکے ساتھ مذاکرات کیسے کر سکتے ہیں۔ حکومت کیساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ آپ نے ہمیں اعتماد میں بھی نہیں لیا۔

مولانا فضل الرحمن نے انتباہ کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم لیگ ن اگر اب بھی لانگ مارچ نہیں کرے گی توپھر تحریک کو شدید دھچکا پہنچے گا۔

مولانا نے تجویز دیتے ہوئے بتایا کہ لانگ مارچ سے قبل روڈ کارواں نکالا جائے تو حکومت پر دباؤ بڑھے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی کے ساتھ پارلیمنٹ میں چلنے پر منا لیا۔