تازہ ترین
  • بریکنگ :- کراچی:اسٹیل ٹاؤن میں اے وی سی سی اوراےوی ایل سی کی مشترکہ کارروائی
  • بریکنگ :- کراچی:مبینہ مقابلے میں 3اغواکارمارے گئے،پولیس
  • بریکنگ :- اغواکاروں کاتعلق بین الصوبائی اغوابرائےتاوان گروپ سےتھا،ایس ایس پی
  • بریکنگ :- ملزموں نےکچھ روزقبل شہری کوکراچی سےاغواکرکےتاوان طلب کیاتھا

او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس تاریخی پیش رفت ہے: آرمی چیف

Published On 21 March,2022 07:39 pm

راولپنڈی:(دنیا نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کانفرنس تاریخی پیش رفت ہے، خطے میں دیرپا امن اور استحکام کیلئے درپیش چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ اور ازبکستان کے نائب وزیر خارجہ نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

آرمی چیف اور مصر کے وزیر خارجہ کی ملاقات میں باہمی دلچسپی علاقائی سلامتی، دفاعی اورسکیورٹی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون اوردیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ سپہ سالار نے پاکستان اور مصر کے باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے مابین حقیقی برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ملکوں کےمابین ہرشعبےمیں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اوآئی سی کے وزرائے خارجہ کانفرنس ایک تاریخی پیش رفت ہے، کانفرنس میں افغانستان میں انسانی صورتحال پر غور، عالمی برادری سے تعاون پر بات ہوگی، خطے میں دیرپا امن و استحکام کیلئے درپیش چیلنجز کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق مصری وزیرخارجہ نےعلاقائی امن واستحکام کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور پاکستان کیساتھ سفارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کےعزم کا اعادہ کیا۔

ازبک نائب وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات

بعدازاں ازبکستان کے نائب وزیر خارجہ نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سلامتی، مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان، ازبکستان کے ساتھ تعلقات کو کلیدی اہمیت دیتا ہیں، پاک، ازبک تعلقات مذہبی وابستگی، مشترکہ اقدار، مجموعی تذویراتی اہمیت کے حامل ہیں، دونوں ممالک کے مابین باہمی فائدہ مند، بڑھتے اقتصادی، دفاعی تعاون کے روشن امکانات ہیں۔