تازہ ترین
  • بریکنگ :- شمالی وزیرستان کےعلاقےمیرعلی میں فوجی قافلےپرخودکش حملہ
  • بریکنگ :- خودکش حملےمیں 4 فوجی جوان شہید،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- شہدامیں سپاہی عمیراورخرم بھی شامل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- خفیہ اداروں نےخودکش حملےکی تحقیقات شروع کردیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- خود کش حملہ آور،سہولت کاروں کاپتہ چلایاجارہاہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- شہدامیں لانس نائیک شاہ زیب،لانس نائیک سجادشامل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- پاک فوج دہشتگردی کےناسورکےخاتمےکیلئےپرعزم ہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بہادرجوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،آئی ایس پی آر

پلاسٹک آلودگی کا اصل مقام بتانے والی ایپ

Published On 13 April,2021 12:44 pm

اوسلو:(روزنامہ دنیا) ناروے کی یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایک ایپ تیار کی ہے جو بتاسکتی ہے کہ ساحل پر کچرہ آخر کہاں سے آیا ہے ۔

 میڈیا رپورٹ کے مطابق اس ایپ کو استعمال کرکے ساحل پر چہل قدمی کرنے والے عام افراد بھی کچرے کی تصویر لے کر اس کے جی پی ایس محددات کے ساتھ اسے ایپ کے ڈیٹا بیس میں بھیج سکتے ہیں۔جوں ہی آپ پلاسٹک سے بنی کسی شے کی تصویر لیتے ہیں، ایپ ڈیٹا بیس سے پہچان لیتی ہے کہ یہ کونسی شے ہے ۔ اس کے بعد وہ پانی کی لہروں، موسمیاتی کیفیات اور سمندری بہاؤ کی مدد سے جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ آخر پلاسٹک کا کوڑا کرکٹ کہاں سے آیا ہے ۔ اس طرح ایک محتاط اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کس سمندری راہ سے ساحل تک پہنچا ہے ۔

ابتدائی طور پر یہ ایپ 100 افراد آزمائیں گے ۔ انہیں سمندری کچرہ اٹھانے کے منصوبے کے تحت ساحلوں پر بالخصوص پلاسٹک کے کوڑے کی نشاندہی کا کام سونپا جائے گا۔