تازہ ترین
  • بریکنگ :- پنجاب اسمبلی میں موجودہ ارکان کی تعداد 346 ہے
  • بریکنگ :- حکومتی اتحادکوکل 176 ارکان کی حمایت حاصل
  • بریکنگ :- حکومتی اتحادمیں ن لیگ 164،پیپلزپارٹی کے 7 ارکان شامل
  • بریکنگ :- 4 آزادامیدواراورایک رکن راہ حق پارٹی کاحکومت کیساتھ ہے
  • بریکنگ :- اپوزیشن میں پی ٹی آئی کےارکان کی تعداد 158 ہے
  • بریکنگ :- لاہور:مسلم لیگ ق کےارکان کی تعداد 10 ہے
  • بریکنگ :- رکن پنجاب اسمبلی فیصل نیازی اپنی رکنیت سےمستعفی ہوچکے
  • بریکنگ :- چودھری نثارپنجاب اسمبلی کی کارروائی میں حصہ نہیں لےرہے

علی بابا پر2 ارب80 کروڑ ڈالرجرمانہ، کمپنی نےنقصان ایک دن میں پورا کرلیا

Published On 13 April,2021 10:08 pm

بیجنگ: (دنیا نیوز) چینی ارب پتی بزنس مین جیک ما نے اربوں کا نقصان صرف ایک دن میں پورا کر لیا۔ چینی ریگولیٹرز ادارے نے علی بابا کے مالک کو 2 ارب 80 کروڑ ڈالر کا جرمانہ کیا تھا۔

سزا سنانے کے ایک دن بعد علی بابا کے شیئرز کی مالیت میں 9 فیصد تک اضافہ ہوا جس سے جیک ما کی دولت میں صرف ایک دن میں ہی 2 ارب 30 کروڑ کا اضافہ ہو گیا۔ گزشتہ چار سال میں علی بابا کے شیئرز کی مالیت میں یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔

خیال رہے کہ چینی ریگولیٹرز نے آن لائن کاروبار کرنے والے ادارے علی بابا کو انسداد اجارہ داری قوانین کی خلاف ورزی اور مارکیٹ پر اپنی بالادستی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزام میں جرمانہ عائد کیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمانے کی رقم علی بابا کی طرف سے 2019ء میں اکٹھے کیے جانے والے ریونیو کا چار فیصد بنتی ہے۔

چینی ادارے سٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن (ایس اے ایم آر) نے کہا ہے کہ دسمبر میں شروع کی گئی تحقیقات کے بعد ادارے نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ علی بابا گروپ اپنے تاجروں کو دوسرے آن لائن ای کامرس پلیٹ فارمز استعمال کرنے سے روک کر 2015 سے مارکیٹ پر اپنی بالادستی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔

چینی ادارے کے مطابق سامان کی آزادانہ نقل وحمل روک کر اور تاجروں کے کاروباری مفادات کے خلاف یہ طرز عمل چین کے اجارہ داری کے خلاف قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ایس اے ایم آر نے علی بابا کو حکم دیا ہے کہ وہ قانونی تقاضے بہتر انداز میں پورے کرنے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع اصلاحات کرے۔

آن لائن کاروباری کمپنی علی بابا نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے چینی ریگولیٹری ادارے کا فیصلہ تسلیم کر لیا ہے اور اس پر مضبوطی سے عمل کیا جائے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کارپوریٹ تقاضے پورے کرنے لیے بھی اپنے کام میں بہتری لائے گا۔ چین میں تاجروں کو حریف پلیٹ فارموں کے ساتھ کام کرنے سے روکنے کا عمل طویل عرصے سے جاری ہے۔

مارکیٹ کو باضابطہ بنانے والے سرکاری ادارے نے فروری میں جاری ہونے والے قواعدوضوابط کے تحت اس عمل کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

اکتوبر میں علی بابا کے بانی جیک ما نے چین کے ریگولیٹری نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اس وجہ سے بھی کمپنی کو سخت محاسبے کا سامنا ہے۔

نومبر میں حکام نے مالی لین دین کی ٹیکنالوجی کا کاروبار کرنے والے علی بابا کی ذیلی کمپنی آنٹ گروپ کے 37 ارب ڈالزر کے لسٹنگ منصوبے بھی معطل کر دیے تھے۔