تازہ ترین
  • National :- شوکت خانم اسپتال کراچی کی تعمیرشیڈول کےمطابق جاری،وزیراعظم
  • National :- اگلےسال دسمبرمیں اسپتال کاافتتاح کردیاجائےگا،وزیراعظم
  • National :- یہ اسپتال لاہورکےشوکت خانم اسپتال سے دوگنابڑااورجدیدآلات سےلیس ہوگا ،وزیراعظم
  • National :- وزارت داخلہ میں کرپٹ لوگوں کیخلاف جھاڑوپھیردیں گے،شیخ رشید

خلائی مخلوق کے لیے لائبریری بنانے کی تیاریاں

Published On 01 May,2021 04:54 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) کائنات میں زمین سے باہر ذہانت کی تلاش کرنے والا ادارہ سیٹی انسٹی ٹیوٹ خلائی مخلوق کے لیے ایک مخصوص لائبریری بنانے میں معاونت کر رہا ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لائبریری ’دا گریٹ سائلنس‘ یعنی ’عظیم خاموشی‘ کے جواب میں سیٹی کی کاوش ہے۔ ’عظیم خاموشی‘ وہ تصور ہے کہ ایک لامحدود (یا قریب قریب لامحدود) کائنات، جس میں انسانوں کے علاوہ اور بھی مخلوقات کو بسنا چاہیے، وہاں زمین اور دوسری تہذیبوں کے درمیان ذرا بھی مواصلات نہیں۔

اس تصور کو عام طور پر فرمی پیراڈاکس کہا جاتا ہے۔ ہماری کہکشاں میں ایک کھرب سے چار کھرب کے درمیان ستارے ہیں اور ان میں اور بھی سیارے ہیں جو ان کے گرد مدار میں ہیں۔

ہماری قابل مشاہدہ کائنات میں ممکنہ طور پر قریباً دو ہزار ارب کہکشائیں ہیں، اس بڑی تعداد میں یہ ممکن ہے کہ نہ صرف ایک بلکہ لاکھوں ایسے سیارے ہوں جہاں زندگی موجود ہو۔

چونکہ انسانوں کا اب تک ان خلائی مخلوقات کے ساتھ رابطہ نہیں ہو پایا ہے، اس لیے نوبیل انعام جیتنے والے ماہر طبیعیات انریکو فرمی نے سوال اٹھایا تھا وہ کہاں ہیں؟

سائنسدانوں کا مفروضہ ہے کہ مواصلات نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایک بڑا فلٹر ہے یعنی زندگی کو ستاروں کے درمیان خلا میں بسنے کے لیے مختلف مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ تہذیبیں ایک جگہ ٹھہری نہیں رہتیں کہ ہم انہیں ڈھونڈ سکیں، بلکہ وسائل کی کمی، جنگیں، موسمیاتی تندیلیوں اور دوسرے مسائل کے باعث ختم ہو جاتی ہیں۔

سیٹی کا کہنا ہے کہ چونکہ کچھ تہذیبیں خود کو لاحق ایسے خطرات سے کامیابی سے بچ گئی ہوں گی جو مستقبل میں اوروں کو بھی لاحق ہوں، اس لیے سب ایک بین الستارہ لائبریری میں حصہ ڈال کر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ عظیم خاموشی کی لائبریری کائنات میں اور مخلوقات کو دعوت دیتی ہے کہ وہ تباہ کن خطرات اور بچاؤ کی حکمت عملی کو بانٹیں، کیونکہ ایسی معالومات سب کے لیے اہم ہیں۔

یہ نیا ریسرچ سینٹر ’تبدیلی کے لمحات‘ سے وابستہ اشیا کا ذخیرہ ہو گا۔ یہ قدرتی ہوں گی جیسے لاوا، آسمان سے گرنے والے پتھر یا معدوم جانوروں کے فاسل اور انسان کی بنائی ہوئی جیسے کلہاڑیاں، پیسہ، ٹرینیٹائٹ (پہلے ایٹم بم کے دھماکے میں بننے والا شیشہ) اور پلاسٹیگلومریٹ (ریت اور پلاسٹک کا آمیزہ)۔

یہ لائبریری فی الوقت واحد ہی ہے، مگر ممکن ہے کہ اور بھی بن جائیں۔ ’سپیس‘ میگزین سے بات کرتے ہوئے تجرباتی فلسفی اور سیٹی میں آرٹسٹ ان ریزیڈنس جوناتھن کیٹس نے کہا: ’ہم پہلے سے موجود لائبریریوں سے بات کر رہے ہیں یہ جاننے کے لیے کہ کیا اور شاخوں کی میزبانی کرنا چاہیں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہم سیارے سے باہر بھی دیکھ رہے ہیں اور اس پر غور کر رہے ہیں کہ چاند پر اس کی شاخ قائم کرنے کے لیے کیا درکار ہو گا۔

سیٹی کا کہنا ہے کہ یہ لائبریری ’موقعے سے لے کر پیچیدگی اور اوور ریچ جیسی چیزوں‘ کے لیے جگہ فراہم کرے گی‘ اور معلومات اور تصورات شیئر کرنے کے لیے دعوت کائنات میں نشر کی جائے گی۔