تازہ ترین
  • بریکنگ :- شہبازگل کوقانون کے مطابق گرفتارکیا گیا،وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل کیخلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ نمبر 691/22 درج کیا گیا،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل کےخلاف سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ،رانا ثنا اللہ
  • بریکنگ :- مقدمےمیں دفعات 505،120بی،153اے،124اے،131 شامل،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل نےجوبیان دیاوہ دہراناقومی مفادمیں نہیں،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- خاص طورپرفوج کےرینکس کوپکاراگیا ہے،وزیرداخلہ راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل کوکل عدالت میں پیش کریں گے، وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ
  • بریکنگ :- سازشی کردارانکوائری میں سامنےآئیں گے،وزیرداخلہ راناثنااللہ
  • بریکنگ :- سازش میں ملوث کرداروں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- عمران خان کہہ رہے ہیں کہ شہبازگل کواغواکیاگیاہے،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- اغوا نہیں باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے،وزیرداخلہ راناثنا اللہ
  • بریکنگ :- عمران خان کویقین دلاتاہوں قانون کےمطابق سلوک ہوگا،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شیخ رشید چلاہواکارتوس ،انہیں گرفتارکرنےکی ضرورت نہیں،رانا ثنا اللہ
  • بریکنگ :- ڈیوٹی فوادچودھری کی لگی تھی لیکن اس نےشہبازگل کوآگےکردیا،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل کےپیچھےکون سےکردارتھےان کی تحقیقات ہوں گی،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- مجھے پنجاب حکومت کے پروٹوکول کی ضرورت نہیں،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- پنجاب پولیس کے اسلام آباد آنے کی تصدیق نہیں ہوسکی،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- اگربنی گالہ کوکیمپ آفس ڈکلیئرکریں گےتوپھردیکھا جائے گا،راناثنااللہ

سائنسدانوں نے سوشل میڈیا کو انسانی معاشرے کیلئے خطرناک قرار دیدیا

Published On 02 July,2021 05:30 pm

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی سائنسدانوں نے سوشل میڈیا کو انسانی معاشرے کی بقا کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں فوری طور پر تحقیقی کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سوشل میڈٰیا کے حوالے سے ایک اہم مقالے میں سائنسدانوں نے لکھا ہے کہ جس طرح انسانی بقا کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کی جا رہی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اس پر بھی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے یہ مقالہ ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز آف دی یونائٹڈ سٹیٹس آف امریکا‘‘ میں حال ہی شائع ہوا ہے جس کی تیاری میں دنیا کے بہترین دماغ رکھنے والوں نے اپنی ریسرچ پیش کی۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اب ایسی پالیسیاں بنانے کی اب اشد ضرورت ہو چکی ہے جن کی مدد سے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد وضوابط مقرر کئے جا سکیں۔

اپنے اس مقابلے میں محققین نے لکھا کہ ابھی تک ہمیں اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ سوشل میڈیا سے انسانی رویوں پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

محققین نے کہا یہ بالکل ویسی ہی صورتحال ہے جیسے انڈسٹریوں نے منافع کمانے کی خاطر دنیا کے ماحول کو آلودہ کر دیا ہے۔ اس کیلئے دنیا بھر کے ماہرین جس طرح کی کاوشیں کر رہے ہیں، بالکل اسی طرح سوشل میڈیا کے خطرات سے بھی آگاہ کرنے کیلئے فوری کچھ کرنے کی ضرورت پیش آ چکی ہے۔