’کورونا وائرس بھی پیار کرنے والوں کو دور نہ کر سکا‘

’کورونا وائرس بھی پیار کرنے والوں کو دور نہ کر سکا‘

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈنمارک کی انگا راسموسن 85، اور جرمنی کے کارستن توشین ہانسن 89، روزانہ سرحد پر ایک دوسرے کو ملتے ہیں۔ ان کی یہ ملاقات ایون توفت کے قصبے کی سرحد پر ہوتی ہے جہاں یہ بات چیت کرتے ہیں اورکھانا کھاتے ہیں۔

راسموسن اپنے آبائی قصبے گالہوس سے سرحد تک خود گاڑی چلا کر جاتی ہیں جبکہ ہانسن اپنے آبائی علاقے سدرلوگم سے اپنی موٹرسائیکل پر سرحد پر آتے ہیں۔ جب سے شٹ ڈاؤن ہوا ہے یہ دونوں آپس میں روزانہ ملنے کی کوشش کرتے ہیں اور فون پراکثر بات کرتے ہیں۔

راسموسن نے جرمنی کے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ افسوسناک بات ہے لیکن ہم اسے تبدیل نہیں کرسکتے۔ یہ دونوں اب مقامی سیلیبریٹی بن چکے ہیں۔ اس قصبے کے میئر نے اپنے موٹرسائیکل پر اس جوڑے کو ایک دوسرے سے ملتے اور بات چیت کرتے دیکھا۔