تازہ ترین
  • بریکنگ :- صدرعارف علوی کی فوجی قافلےپرخودکش حملےکی مذمت
  • بریکنگ :- ایسےبزدلانہ حملےہمارےعزم کوکمزورنہیں کرسکتے،صدرمملکت

ملائیشین وزیراعظم محی الدین کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور

Last Updated On 08 May,2020 05:31 pm

کوالالمپور: (دنیا نیوز) ملائیشیا کے وزیراعظم محی الدین کے خلاف سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی عدم اعتماد کی تحریک منظور کر لی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشین وزیراعظم محی الدین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آ گئی، اسپیکر قومی اسمبلی محمد عارف نے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کی تحریک کو منظور کر لیا، عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔

ملائیشین خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشین قومی اسمبلی کا ایک روزہ اجلاس 18 مئی کو شیڈول ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال 24 فروری کو سابق وزیراعظم مہاتیر محمد اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تھے۔ ان کی سیاسی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے محض 2 سال سے بھی کم عرصے میں حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے دفتر سے جاری تفصیلی بیان میں کہا گیا تھا کہ مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ بادشاہ کے محل دوپہر ایک بجے بھجوایا، تاہم اس بیان میں استعفے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ یہ سیاسی ہلچل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مہاتیر محمد کے حمایتیوں نے ان کے نامزد جانشین انور ابراہیم تک اقتدار کی منتقلی ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

مہاتیر کی جانب سے استعفیٰ دینے کی پیشکش سے چند لمحوں قبل ہی ان کی جماعت بیراستو کا یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو چھوڑ دے گی اور مہاتیر محمد کی بطور وزیراعظم حمایت کرے گی جبکہ متعدد کابینہ وزیروں سمیت دیگر 11 قانون سازوں نے بھی انور ابراہیم کی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

یوں بیراستو کے 50 قانون سازوں اور انور ابراہیم کی پارٹی کے حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے کی صورتحال نے اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کردیے کہ کیا انور اقتدار سنبھالنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ مہاتیر محمد کے پہلے دور اقتدار کے دوران مہاتیر اور انور ابراہیم ملائیشیا کے 2 اعلیٰ ترین رہنما تھے جنہوں نے مئی 2018 کے انتخابات میں ایک بدعنوان حکومت کو ختم کرنے کے سیاسی معاہدے کے تحت اتحاد کرلیا تھا۔

انتخابات سے قبل ہوئے سمجھوتے کے تحت اتحادی جماعتوں میں اقتدار منتقل کرنے کا معاہدہ ہوا تھا لیکن مہاتیر محمد کی جانب سے اقتدار سے دست برداری کی تاریخ دینے سے انکار پر ان کے تعلقات میں دراڑ آگئی تھی۔

یاد رہے کہ 94 سالہ مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعت نے مئی 2018 میں حریف جماعت بریسن نیشنل (بی این) اور اس کے اتحادیوں کے 60 سالہ دور اقتدار کا خاتمہ کر کے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

دلچسپ بات یہ کہ اپنے پہلے دور اقتدار میں مہاتیر محمد نے اسی جماعت کے زیر سایہ 22 سال تک حکومت کی تھی۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے انہوں نے نجیب رزاق کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا جنہیں طویل عرصے سے کرپشن کے الزامات کا سامنا تھا۔

تاہم جب مہاتیر محمد پہلی مرتبہ برسرِاقتدار تھے اس وقت نجیب رزاق ان کے اہم راز داں سمجھے جاتے تھے۔ حکمراں جماعت پر کرپشن کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد مہاتیر محمد نے نجیب رزاق کی حکومت کو پارلیمنٹ سے بے دخل کرنے کے لیے اپوزیشن جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ وہ سیاست کو خبر باد کہہ چکے تھے۔

مہاتیر محمد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ملائیشیا کو جدید خطوط پر استوار کیا اور ساتھ ہی وعدہ کیا کہ نئی حکومت سیاسی حریف سے ہرگز ‘بدلہ’ نہیں لے گی۔