تازہ ترین
  • بریکنگ :- جہلم:اپوزیشن اصل میں بونوں پرمشتمل ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- فوادچودھری کابلاول کوکراچی،مریم نوازکومیئرلاہورکاالیکشن لڑنےکامشورہ
  • بریکنگ :- بلاول اورمریم نوازکا قد نہیں کہ خود کو قومی رہنماکہہ سکیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- یہ حکومت گرانے کی ساتویں کوشش کررہے ہیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- نوازشریف اینڈکمپنی نےملکی معیشت کابیڑاغرق کیا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- نوازشریف اینڈکمپنی کاکیاگیاکباڑذہنوں سےنہیں نکل سکتا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- تمام سیاسی جماعتیں عمران خان کےآگےڈھیرہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- یہ ملک مریم اوربلاول کےحوالےنہیں کیاجاسکتا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمان کےاندراورباہرکوئی قدرنہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- بلاول اورمریم کوچاہیےنچلی سطح سےاوپرآنےکی کوشش کریں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ان کاانحصارفضل الرحمان کےمدرسوں کےبچوں پرہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- شریف فیملی کےماہانہ اخراجات کروڑوں روپےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- لوگ لندن فلیٹس میں ہی نوازشریف سےملاقاتوں کیلئےجاتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- نوازشریف کےویزےمیں توسیع مشکل ہے،اسی لیےواپسی کاکہہ رہےہیں،فوادچودھری

دہلی: بی جے پی کے انتہا پسندوں نے ایک اور مسلمان نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

Published On 25 March,2021 05:32 pm

نئی دہلی: (دنیا نیوز) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بی جے پی کے انتہا پسندوں نے ایک اور مسلمان نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ مسلمان نوجوان کو پاکستان کے خلاف نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بی جے پی کے کارکن نے مسلمان نوجوان کو شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں نوجوان دوسرے نوجوان کو بے رحمی سے مار رہا ہے اور اس سے زبردستی پاکستان مخالف اور ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کو کہہ رہا ہے۔ ملزم گزشتہ سال دہلی فسادات میں میں بھی ملوث رہا ہے۔

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ متاثرہ شخص مجبوری میں نعرے لگا رہا ہے جبکہ اسی دوران حملہ آور اسے زمین پر گرا دیتا ہے اور پھر ویڈیو میں نظر نہ آنے والا شخص اس سے یہ نعرہ بآواز بلند داہرنے کو کہتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ شمال مشرقی دہلی کے علاقے کھجوری خاص کا ہے اور اس سلسلے میں ایک شخص اجے گوسوامی گرفتار کر لیا گيا ہے۔ اجے گواسوامی گذشتہ برس دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے سلسلے میں بھی جیل میں تھے اور کچھ روز قبل ہی وہ ضمانت پر رہا ہو کر باہر آئے تھے۔

یاد رہے کہ دہلی میں گزشتہ برس فروری میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فسادات کے دوران بھی یہی کھجوری خاص کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس تازہ واقعے کا فسادات سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔

دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی سٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے کارکنوں نے دو راہباؤں اور ان ساتھ سفر کرنے والی دو طالبات کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے انہیں ٹرین سے محض اس بنیاد پر اتروا دیا گیا کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ ان طالبات کو تبدیلی مذہب کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔

مسیحیوں کی تنظیموں نے راہباؤں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعہ پر وزیراعظم مودی سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی مذہب کے نام پر مسیحیوں اور بالخصوص راہباؤں کو نشانہ بنانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔