تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان سےپارٹی کی اہم سیاسی قیادت کی ملاقات
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی سیاسی قیادت سےمشاورت کےبعداہم فیصلوں کی منظوری
  • بریکنگ :- بیوروکریسی کےعدم تعاون کےمسئلےکےحل کی تجویز،پارٹی سفارشات منظور
  • بریکنگ :- حکومت اوربیوروکریسی کامل کرعوامی سطح پرڈلیورکرنےکامیکانزم تیار
  • بریکنگ :- صوبائی اورضلعی سطح پرکوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی
  • بریکنگ :- صوبائی وضلعی انتظامیہ،پارٹی عہدیداروں کوشامل کرنےکی منظوری
  • بریکنگ :- ارکان پارلیمنٹ اورٹکٹ ہولڈرزکوکمیٹیوں میں شامل کرنےکی منظوری
  • بریکنگ :- کوآرڈینیشن کمیٹیاں انتظامی امورپرمشاورت سےفیصلےکریں گی
  • بریکنگ :- حکومتی بورڈزمیں اعزازی عہدوں پرپارٹی رہنماؤں کی تقرریاں ہوں گی
  • بریکنگ :- لاہور:میرٹ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پارٹی رہنماؤں نےبیوروکریسی کےعدم تعاون سےمتعلق آگاہ کیا
  • بریکنگ :- ہمیں ڈلیورکرناہےہرعہدیدارکوکارکردگی دکھاناہوگی،وزیراعظم

مودی کے تمام حربے ناکام، کسان کالے قوانین کیخلاف ساڑھے چار ماہ سے سراپا احتجاج

Published On 11 April,2021 11:32 am

نئی دہلی: (دنیا نیوز) مودی سرکار کے تمام حربے کسانوں کا احتجاج ختم نہ کراسکے، کاشت کار کالے زرعی قوانین کیخلاف ساڑھے چار ماہ سے سراپا احتجاج ہیں، ہریانہ کی مصروف شاہراہ پر دوسرے روز بھی احتجاج جاری ہے۔

بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے دھرنے جاری، ہریانہ کی مصروف شاہراہ کے ایم پی پر دوسرے روز سیکڑوں افراد جمع ہو گئے جس پر انتظامیہ متبادل راستے بنانے پر مجبور ہو گئی۔

کاشت کاروں نے متنازع قوانین کی واپسی تک احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیدیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار پر دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاج کا دائرہ بڑھا رہے ہیں۔

کاشتکاروں نے دلی کے اردگرد ٹکری، سنگھو اور غازی پور کے علاوہ بھی دھرنے دینے کا منصوبہ بنا لیا۔ مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے گندم کی منڈیاں سنسان ہیں۔