تازہ ترین
  • بریکنگ :- حکومت بتائےڈاکٹرطاہرشمسی کوکراچی سےکس نےبلایا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- تمام اپوزیشن جماعتوں کوساتھ لےکرچلناچاہتاہوں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- بجٹ سےپہلےتمام اپوزیشن رہنماؤں کواکٹھاکیا،عشائیہ پربلایا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم بنی توجیل میں تھا،جب ٹوٹی توبھی جیل میں تھا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- (ن) لیگ میں مشاورت سےفیصلےہوتےہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- نوازشریف میرےقائدہیں،ہربات میں ان سےمشاورت کرتاہوں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ہم سیاستدان آلہ کاربنےہیں،اس حمام میں سب ننگےہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ہمارےملک میں سیاستدان بھی استعمال ہوئے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- پرویزمشرف نےمجھےوزیراعظم بنانےکی پیشکش کی تھی،شہبازشریف
  • بریکنگ :- غلام اسحاق خان نےبھی مجھےوزیراعظم بننےکی پیشکش کی تھی،شہبازشریف
  • بریکنگ :- حکمت عملی بناتےتونوازشریف چوتھی باروزیراعظم ہوتے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- جتنی سپورٹ عمران خان حکومت کوملی اتنی کسی کونہیں ملی،شہبازشریف
  • بریکنگ :- اتنی سپورٹ کےباوجودحالات خراب ہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کارگل معاملےپرنوازشریف کوکہامشرف کوامریکالےجائیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ایک دوست نےمشرف کوامریکالےجانےکی مخالفت کی،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ہمیں جیلوں میں ڈالنےکافیصلہ فردواحدمشرف کاتھا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- 2 بارنیب کامہمان بن چکاہوں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- عمران خان کابس چلےتومجھےدوبارہ گرفتارکرالیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- مجھ پرجوسختیاں کی گئیں ان سےمیری سوچ نہیں بدلی،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ہم یہ نہیں کہہ رہےہم فرشتےہیں،ہم سےبھی غلطیاں ہوئیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کرآگےبڑھناچاہیے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ہمیں ملک کیلئےذاتی اناکوختم کرناچاہیے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- آئیں ماضی کی تلخیوں کوختم کریں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- میرےاستعفےکی خبریں جعلی ہیں،منظرعام سےغائب نہیں ہوا،شہبازشریف

غیر ملکی افواج کی خدمات پر مامور افغان محفوظ رہیں گے: طالبان کی یقین دہانی

Published On 07 June,2021 05:20 pm

کابل: (ویب ڈیسک) غیر ملکی افواج کے لیے کام کرنیوالے افغان شہریوں کو افغان طالبان نے یقین دلایا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہ اپنے وطن میں محفوظ رہیں گے۔

افغان طالبان کی طرف سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا کہ افغان باشندے جو غیر ملکی افواج کے لیے کام کرتے تھے انہیں فوجی انخلا کے بعد اپنا ملک ترک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ بالکل محفوظ رہیں گے۔ طالبان کے بیان میں خاص طور سے کہا گیا کہ کسی کو بھی فی الحال اپنا ملک نہیں چھوڑنا چاہیے۔ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش انہیں پریشان نہیں کرے گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عشروں سے جنگ، جارحیت اور تشدد کے شکار ملک افغانستان میں گزشتہ بیس سالوں کے دوران مقامی افغان باشندوں نے سرزمین پر تعینات امریکی اور دیگر بین الاقوامی فورسز کے لیے بطور مترجم، سکیورٹی گارڈز اور دیگر شعبوں میں ان کے لیے امدادی خدمات انجام دی ہیں۔

اب ان مقامی افغان باشندوں کو سخت خدشات لاحق ہیں کہ انکے ملک سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد انہیں طالبان سے شدید خطرات لاحق ہوں گے کیونکہ طالبان کی طرف سے انتقامی کارروائی کے امکانات قوی ہیں۔

ان خدشات کے سبب بہت سے افغان باشندوں نے ملک ترک کرنے کے ارادے سے مختلف بیرون ممالک میں خصوصی ویزے کی درخواست دے رکھی ہے۔ بہت سے ممالک جن میں امریکا، جرمنی اور برطانیہ شامل ہیں نے اپنے مقامی عملے کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے اپنے پروگرام تیار کر رکھے ہیں۔

کابل میں قائم امریکی سفارتخانے کے اعداد و شمار کے مطابق 18 ہزار افغان باشندوں نے خصوصی امیگریشن ویزا کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہزاروں ایسے افغان مقامی باشندے جنہوں نے غیر ملکی افواج کے لیے افغانستان میں خدمات انجام دی تھیں، متعلقہ ممالک میں نئے سرے سے آباد ہو چُکے ہیں۔

امریکی غیر سرکاری تنظیم No One Left Behind کے ذرائع کے مطابق قریب 300 افراد جنہوں نے امریکی فوج اور فوجیوں کے خاندانوں کے لیے بطور مقامی عملہ اپنی خدمات انجام دی تھیں 2016 ء سے اب تک ہلاک ہو چُکے ہیں۔

امریکی غیر سرکاری تنظیم نو ون لفٹ بیہائنڈ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اب یہ عسکریت پسند یا طالبان باغی گروپ مقامی افغانوں سے ان کے ماضی کے اقدامات اور غیر ملکی افواج کو جو انہوں نے اپنی خدمات پیش کی تھیں اُس پر معذرت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انہیں تاکید کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مستقبل میں پھر کبھی اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں۔

طالبان کی طرف سے دیے گئے تازہ ترین بیان میں مزید کہا گیا کہ جب وہ براہ راست ہمارے سامنے دشمن کی حیثیت سے کھڑے تھے تب ہم نے انہیں دشمن کی حیثیت سے ہی دیکھا تاہم جب انہوں نے دشمنوں کی صفوں کو ترک کر دیا اور ایک عام افغان شہری کی طرح اپنے ملک میں زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کر لیا تو انہیں کسی قسم کی پریشنانی اور مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔