ٹرمپ پر دستاویزی فلم کا تنازع: بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور نیوز ہیڈ مستعفی

Published On 10 November,2025 09:28 am

لندن: (دنیا نیوز) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبورا ٹرنَس اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پر بننے والی بی بی سی پینوراما کی ایک دستاویزی فلم کے متعلق انہیں اِس تنقید کا سامنا تھا کہ ڈاکیومینٹری میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں ایڈیٹنگ کر کے ناظرین کو گمراہ کیا گیا۔

ٹم ڈیوی جو کہ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر پانچ سال سے فائز تھے انہیں بی بی سی پر متعصبانہ رویے کے الزامات اور کئی تنازعات کی وجہ سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا تھا۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے گذشتہ ہفتے بی بی سی کے ایک اندرونی میمو کی تفصیلات شائع کی تھیں جس میں بظاہر کہا گیا تھا کہ پینوراما پروگرام نے امریکی صدر کی تقریر کے دو حصوں کو ایک ساتھ ایڈٹ کیا ہے تاکہ انہیں واضح طور پر جنوری 2021 کے کیپٹل ہل فسادات کی حوصلہ افزائی کرتے دکھایا جا سکے۔

برطانوی سیاسی رہنماؤں کو امید ہے کہ ان استعفوں سے تبدیلی آئے گی، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، ڈائریکٹر جنرل اور بی بی سی نیوز کے سربراہ دونوں کے ایک ہی روز مستعفی ہونے کی مثال نہیں ملتی ہے۔

ٹم ڈیوی نے کہا کہ دیگر عوامی اداروں کی طرح، بی بی سی بھی غلطیوں سے مبرا نہیں اور ہمیں ہمیشہ شفاف اور جوابدہ ہونا چاہئے، حالیہ تنازع ان کے استعفیٰ کی واحد وجہ نہیں تاہم اس نے بھی ان کے سوچے سمجھے فیصلے پر اثر ڈالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر بی بی سی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، لیکن کچھ غلطیاں ہوئی ہیں اور بطور ڈائریکٹر جنرل مجھے حتمی ذمہ داری قبول کرنی ہو گی۔

ہیڈ آف نیوز ڈیبورا ٹرنَس نے کہا کہ پینوراما تنازع اس نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں یہ بی بی سی کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس کی حتمی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے، عوامی زندگی میں رہنماؤں کو مکمل طور پر جوابدہ ہونا چاہئے اور اسی وجہ سے میں اس عہدے سے مستعفیٰ ہو رہی ہوں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ غلطیاں ہوئی ہیں تاہم یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ بی بی سی نیوز ادارہ جاتی طور پر متعصب ہے۔

ڈیبورا ٹرنس تین سال سے بی بی سی نیوز اور کرنٹ افیئرز کی سی ای او تھیں۔

ٹیلی گراف کی طرف سے شائع کردہ میمو میں بی بی سی عربی کی اسرائیل-غزہ جنگ کی کوریج میں تعصب کے مسائل پر اقدامات کے فقدان کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو واشنگٹن ڈی سی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کیپیٹل جا رہے ہیں، اور ہم اپنے بہادر سینیٹرز اور کانگریس کے ارکان کا حوصلہ بڑھائیں گے۔

پینوراما کی ڈاکومینٹری ایڈٹ میں انہیں یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا کہ ہم کیپیٹل جا رہے ہیں۔، اور وہاں میں آپ کے ساتھ ہوں گا، اور ہم لڑیں گے، ہم بھرپور طریقے سے لڑیں گے۔

اس دستاویزی فلم میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے ایسے دو حصوں کو ایک ساتھ جوڑ کر دکھایا گیا تھا جن کے درمیان اصل میں 50 منٹ سے زیادہ کا فاصلہ تھا۔

اندرونی میمو کی اشاعت کی بعد بی بی سی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور وائٹ ہاؤس نے کارپوریشن کو 100 فیصد فیک نیوز قرار دیا۔

استعفوں پر ردِ عمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بی بی سی کی قیادت استعفی دے رہی ہے یا برطرف کی جا رہی ہے کیونکہ وہ میری چھ جنوری کی بہت اچھی تقریر کو ڈاکٹرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔