تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ کااجلاس آج ہوگا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وفاقی کابینہ اجلاس کا 5 نکاتی ایجنڈاجاری
  • بریکنگ :- قومی ویسٹ مینجمنٹ پالیسی 2022 کابینہ میں پیش ہوگی
  • بریکنگ :- مختلف ممالک سےمتعلق ویزہ پالیسی میں تبدیلی کامعاملہ زیرغورآئےگا
  • بریکنگ :- اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 22 جون کےفیصلوں کی توثیق ہوگی
  • بریکنگ :- کابینہ کی قانون سازکمیٹی کے 23 جون کےفیصلوں کی توثیق ایجنڈےمیں شامل

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

Published On 15 May,2022 11:48 pm

اسلام آباد:(دنیا نیوز) حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت 149 روپے 86 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 144 روپے 15 پیسے فی لٹر، مٹی کے تیل کی فی لٹر قیمت 125 روپے 56 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 118 روپے 31 پیسے فی لٹر برقرار رہے گی۔
  وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے، پٹرول کی قیمتیں آج نہیں بڑھا رہے تاہم کسی بھی وقت دوبارہ تعین کر سکتے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں:مفتاح اسماعیل

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں، پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کر کے بیچ کا راستہ نکالیں گے اور سبسڈی جاری رکھیں گے۔ عمران خان ہمارے لئے بارودی سرنگیں بچھا کر گئے ہیں، عمران خان کی پالیسی اور نااہلی کی وجہ سےملکی معیشت شدید خسارےمیں ہے۔ کاٹن اور دوسری زرعی اجناس درآمد کریں گے، چینی سستی دے رہے ہیں، مزید سستی کرنے کا کہہ دیا۔ 4 بلین ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کریں گے۔ چینی درآمد کرنے کی ضرورت نہیں، اس سال 45 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔زراعت کو ٹھیک نہ کر سکے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں گندم اور کھاد افغانستان میں سمگل ہوئی۔ کورونا کے دوران امداد اور قرض ادائیگی کے التوا سے گزشتہ حکومت کو فوائد ملے مگر عوام تک منتقل نہیں کئے گئے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں،چند سالوں بعد پی آئی ڈی میں کانفرنس کر رہا ہوں، آج معیشت کے بارے میں بات کروں گا، 4 سال پہلے جب ہم نے حکومت چھوڑی گندم ایکسپورٹ کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے چینی ایکسپورٹ کی اور مہنگی امپورٹ بھی کی، اس سال پھر ہم گندم ایکسپورٹ کریں گے، گنا، گندم اور کپاس تینوں کی پیدوار ان کے دور میں کم ہوئی ہے، کیا فوڈ سیکیورٹی میں مشکوک افراد کو بٹھایا گیا ہے؟، ان کا کہنا تھا کہ کیا یوریا کی اسمگلنگ کرائی گئی ہے؟ یوریا کی اسمگلنگ میں بہت سے لوگ ملوث ہوتے ہیں، پنجاب حکومت کے بغیر یہ اسمگلنگ ممکن نہیں ہوتی، گندم بھی پاکستان سے اسمگل ہوئی، ہم زراعت کو ٹھیک نہ کر سکے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں تمام اشیاء کی پیداوار ہوئی ہے، فوڈ سیکیورٹی میں ایسے افسر لگائے گئے جو کرپشن میں ملوث ہیں، پنجاب حکومت کی مدد سے کھاد اور گندم اسمگل کی گئی، یہ ایف آئی اے کی رپورٹ آئی ہے جو عمران خان نیازی کی حکومت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹک میں کتنے پیسے دے کر افسران لگوا رہا تھا، گندم افغنستان اسمگل کروائی گئی، اگر ہم پاکستان میں زراعت کو ٹھیک نہیں کر سکتے تو ہم ترقی نہیں کر سکتے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس سال پاکستان کا امپورٹ ہے وہ 75 ملیں ڈالر ہے، گندم اس وقت بہت مہنگی ہے جب ہم گئے تھے آٹا 35 تھا اب اسی تک جا پہنچا ہے، ہم گھی پر بھی سبسڈی دے رہے ہیں، کرونا میں بہت نقصان ہوا لیکن اس کا پاکستان کو بھی فائدہ بھی ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ڈیڑھ ملین ڈالر ادا کئے، دنیا بھر سے بہت سارا پیسہ ملا، آخری وقت میں حکومت بچانے کے لئے تیل عمران نے سستا کیا، عمران خان اب تو بھنگڑے ڈال رہے ہیں لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ سب بگاڑ کر گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کہاں ڈالر چھوڑا تھا اور اب ڈالر کہاں ملا ہمیں عوام خود دیکھ لیں، عمران خان کے علاوہ سب غدار ہیں، یہ کہتے ہیں ایکسپورٹ بڑھا ہے لیکن اس کے نتائج دیکھ لیں، پہلے سال 5 ملین کم تھا دوسرے سال بھی کم تھا اور تیسرے سال 25 فیصد بڑھا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب پیسوں سے سبسڈی دی وہ پیسے کہاں ہیں مجھے بھی بتا دیں، میں وزیر خزانہ آیا ہوں مجھح بتا دیں وہ ہیسے کہاں ہے؟ سبسڈی کے لئے جو فنڈز ہیں وہ بھی شہباز حکومت نے جاری کئے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اے شوکت ترین وعدہ کر کے گئے تھے، ہم نے وعدے نہیں کئے تھے آئی ایم ایف سے، خان صاحب کہتے تھے نواز شریف کا شاہی خرچ ہے، لیکن عمران صاحب کا خرچہ تو اس سے بھی زیادہ تھا، انہوں خرچہ کم کیسے کیا؟

ان کا کہنا تھا کہ پہلے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ وزیر اعظم ہاؤس کے ساتھ چلتا تھا، اب اس کے اخراجات الگ ظاہر کئے جا رہے تو وزیر اعظم ہاؤس کا خرچہ کم ہو گیا، میں نے کہا تھا کہ پٹرول مسنوعات کی قیتمیں بڑھائی جائیں، لیکن وزیر اعظم مزید قیمتیں بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جو جو وعدے عمران خان نے کئے، وہ تمام وعدے ہمیں پورے کرنے پڑیں گے کیونکہ وہ وعدے وزیر اعظم پاکستان نے کئے تھے۔