پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالرز ہوگئیں: شزہ فاطمہ

Published On 28 August,2025 07:53 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالرز ہوگئی ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے بتایا کہ ہمارے اندازے کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ڈبل ہیں، وزارت آئی ٹی کا ماننا ہے کہ جو پیسے پاکستان آتے ہیں اصل سے کم ہیں۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا بڑا کردار ہے، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کا قیام عمل میں لایا گیا، ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 3 لاکھ لوگوں کی ڈی جی سکلز کے تحت تربیت جاری ہے، ڈی جی سکلز میں مزید 3 لاکھ افراد کو تربیت دی جائے گی، ہواوے، گوگل اور دیگر کے ساتھ مل کر 1 ملین افراد کی تربیت کرنی ہے۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ وزارت آئی ٹی چاہتی ہے ملک کے ہر بچے کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ ملے، انشاءاللہ تین چار سال میں ہم ڈیجیٹلی طور پر ایک مختلف ملک ہوں گے، پاکستان پہلے ہی سات سب میرین کیبلز کے ساتھ منسلک ہے، تین سب میرین کیبلز مزید پاکستان میں آ رہی ہیں۔

وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم دورہ چین میں سب سرمایہ کاروں سے ملاقات کریں گے، وزیر اعظم میرین کیبل کے حوالے سے سرمایہ کاری پر بات کریں گے، کچھ کمپنیوں نے سب میرین میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سب میرین کیبلز ابھی کراچی لینڈ کرتی ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ کراچی کے علاوہ دوسری کسی جگہ پر بھی لینڈنگ سٹیشن بنایا جائے، حکومت چاہتی ہے کہ گوادر یا کسی دوسری جگہ سب میرین لینڈنگ سٹیشن ہو۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان میں صرف 14 فیصد ٹاورز کیبل کے ساتھ منسلک ہیں، فائبرآئزیشن کے حوالے سے کچھ چیلنجز ہیں، پاکستان میں رائٹ آف وے چارجز ریجن میں سب سے زیادہ ہیں۔

وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رائٹ آف وے کی منظوری کا عمل بھی مشکل ہے، تین چار کمپنیوں نے پاکستان کی فائبرآئزیشن کی بیک بون مینیج کی ہوئی ہے، ایکوسسٹم بہتر کیا جائے تو سرمایہ کاری آسکتی ہے، سی ڈی اے نے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رائیٹ آف وے کی تیز منظوری کیلئے پورٹل تشکیل دیا گیا ہے، وزیراعظم آفس سے لیٹر جاری ہوگیا ہے، این ایچ اے اور ریلوے سے کہا گیا ہے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیں، ملک کے 98 فیصد انٹرنیٹ صارفین کا انحصار افراد وائی فائی پر ہے، دو فیصد انٹرنیٹ صارفین فائبر پر انحصار کرتے ہیں۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے 40 سے 60 فیصد تک فائبرآئزیشن لے جائیں، پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو مختلف ادارے دیکھ رہے ہیں، پاکستان سپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ، پی ٹی اے دیگر ادارے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو دیکھ رہے ہیں، تمام اداروں کے لائسنس کی منظوری کی مختلف مراحل ہیں۔

وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ عالمی کنسلٹنٹ ساری چیز کو سٹریم لائن کررہا ہے، عالمی کنسلٹنٹ جلد سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے حوالے سے ریگولیشنز فائنل کردے گا، سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے حوالے سے امریکہ، چین اور دیگر ممالک کی کمپنیوں کی درخواست آئی ہے، ریگولیشنز منظور ہونے کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ ہوجائے گا۔