تازہ ترین
  • بریکنگ :- این اے 249 پرووٹوں کی دوبارہ گنتی کامعاملہ
  • بریکنگ :- کراچی:60 پولنگ اسٹیشنزپرووٹوں کی گنتی مکمل
  • بریکنگ :- امجدآفریدی کےمستردووٹوں کی تعداد34 ہوگئی،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کےقادرخان مندوخیل کے 134ووٹ مستردقرار
  • بریکنگ :- مفتاح اسماعیل کے 194ووٹ مستردقرار،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- ایم کیوایم کےحافظ مرسلین کے 108ووٹ مسترد،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- کل صبح 9بجےمزیدپولنگ اسٹیشنزکےووٹوں کی گنتی شروع ہوگی،الیکشن کمیشن

کرکٹ کی تاریخ کے ہینڈسم کھلاڑی

Published On 02 May,2021 05:34 pm

لاہور: (دنیا نیوز) ایک کرکٹر کو ویسے تو اس کے دلکش کھیل کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے لیکن اگر وہ وجیہہ بھی ہو تواس کی مقبولیت میں دو چند اضافہ ہو جاتا ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں پرکشش شخصیت رکھنے والے کرکٹرز کی کمی نہیں اور حسین و جمیل کرکٹرز ہر دور میں شائقین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔

ہم ذیل میں اپنے قارئین کو ان کرکٹرز کے بارے میں بتائیں گے جنہوں نے اپنے خوبصورت کھیل اور وجاہت کی وجہ سے ایک عرصے تک خوب دھوم مچائی۔

فضل محمود

فضل محمود پاکستان کے وہ برق رفتار باؤلر تھے جنہوں نے سب سے پہلے 100 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ 16 اکتوبر 1952ء کو بھارت کے خلاف کھیلا۔ انہوں نے 34 ٹیسٹ میچز میں 139 وکٹیں اپنے نام کیں اور ان کی اوسط 24.70 رنز رہی۔ 18 فروری 1927ء کو لاہور میں جنم لینے والے فضل محمود نے بہت شہرت حاصل کی۔ انہیں اوول کا ہیرو بھی کہا جاتا ہے۔ 1954ء میں پاکستان نے انگلینڈ کو پہلی بار انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ ہرایا۔ یہ ٹیسٹ میچ اوول کی گرائونڈ میں ہوا۔


اس سے پہلے جب 1952ء میں پاکستان نے بھارت کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلی تو پاکستان یہ سیریز 2-1 سے ہار گیا۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پاکستان کو ٹیسٹ سٹیٹس (Test Status) دلوانے میں فضل محمود کی کارکردگی کا بڑا ہاتھ تھا۔ دہلی ٹیسٹ شروع ہونے سے پہلے ایک لڑکی فضل محمود کے پاس آئی اور انہیں کہا کہ آپ بھارت کو نہیں ہرا سکتے۔ جب پاکستان یہ میچ ہار گیا تو وہ لڑکی دوبارہ فضل محمود کے پاس آئی اور کہا ’’میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ ہم سے نہیں جیت سکتے‘‘۔ اس پر فضل محمود نے کہا اچھا ٹھیک ہے لیکن لکھنئو ٹیسٹ کا انتظار کرنا۔ لکھنؤ ٹیسٹ میں فضل محمود نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی فتح میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اس کے بعد فضل محمود اس لڑکی کو ڈھونڈتے رہے لیکن وہ نظر نہ آئی۔ بعد میں وہی لڑکی ہندوستان کی وزیراعظم بنی اور اس کا نام تھا اندرا گاندھی تھا۔

1954ء میں جب پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ جیتا تو اس میں بھی فضل محمود نے 12 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ درست ہے کہ دہلی اور لکھنئو ٹیسٹ فضل محمود کے یادگار ٹیسٹ تھے۔ 1954ء ہی میں پاکستانی ٹیم کی ملکہ الزبتھ IIسے ملاقات ہوئی۔ ملکہ نے جب فضل محمود کو دیکھا تو برجستہ کہا ’’آپ پاکستانی نہیں لگتے کیونکہ آپ کی آنکھیں نیلی ہیں‘‘۔ 1956 میں ہالی وڈ کی مشہور اورحسین ترین اداکارہ ایوا گارڈنر ایک فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ کی شوٹنگ کیلئے لاہور آئی تھیں۔ اس میں پاکستانی اور بھارتی اداکاروں نے بھی کام کیا تھا۔ پاکستانی اداکاروں میں نیلو اور ساقی شامل تھے۔ نیلو کی یہ پہلی فلم تھی۔ لاہور کے ایک ہوٹل میں ایوا گارڈنر کی فضل محمود سے ملاقات ہوئی تو وہ ہکا بکا رہ گئیں۔ انہوں نے فضل محمود کے ساتھ رقص کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کچھ پاکستانی اداکارائیں بھی فضل محمود کی دیوانی تھیں۔ واقعی وہ اعلیٰ پائے کے کرکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے حسین بھی تھے۔

عمران خان

1971ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کرنے والے عمران خان نے دو دہائیوں تک اپنی کرکٹ اور وجاہت کا ڈنکا بجایا۔ بے شمار لوگ یہ کہتے تھے کہ وہ دیومالائی حسن کے مالک ہیں۔وہ کرکٹ کی تاریخ کے بہترین آل رائونڈرز میں سے ایک ہیں۔ تاریخ کے بہترین کپتانوں میں بھی ان کا نام آتا ہے۔ کئی سابق کرکٹرز نے انہیں تاریخ کا سب سے بڑا کپتان قرار دیا۔ ان کی رائے میں انہوں نے کمزور ٹیم کے ساتھ بھی کئی میچوں میں فتوحات حاصل کیں۔ انہوں نے بھارت کو بھارت میں اور انگلینڈ کو انگلینڈ میں شکست دی۔ 1987-88 میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز برابر کی۔ عمران خان نے کئی ٹیسٹ میچوں میں یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کئی نوجوان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کیا جن میں وسیم اکرم‘ وقار یونس‘ انضمام الحق اور عاقب جاوید شامل ہیں۔ انہوں نے 88ٹیسٹ میچز میں 22رنز کی اوسط سے 362 وکٹیں اپنے نام کیں۔ا یک روزہ میچز میں بھی انہوں نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 1989 میں نہرو کپ اور 1992میں ورلڈکپ جیتا۔ وہ اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے بھی بہت مشہور ہوئے۔

عمران خان کے بہت سکینڈلز سامنے آئے۔ اپنے حسن و جمال سے بھی انہوں نے بے شمار لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا۔ خاص طور پر وہ خواتین میں بڑے مقبول تھے۔ وہ کائونٹی کرکٹ بھی کھیلتے رہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے اس گریجویٹ نے وہ شہرت حاصل کی جو بہت کم لوگوںکو ملتی ہے۔

ڈیوڈ گاور

ان کا تعلق انگلینڈ سے ہے۔ اپنی خوبصورتی اور گھنگھریالے بالوں کی وجہ سے ان کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ بلے باز بھی کمال کے تھے۔ انہوں نے اپنا ٹیسٹ میچ پاکستان کے خلاف 1978 میں کھیلا۔ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے ڈیوڈ گاور نے 17 ٹیسٹ میچز میں 44.2 رنزکی ا وسط سے 8231 رنز بنائے۔ انہوں نے 114 ایک روزہ میچز بھی کھیلے اور 30.8 رنز کی اوسط سے 3170رنز بنائے۔ عمران خان کی طرح وہ بھی خواتین میں بہت مقبول تھے۔ انہیں خواتین کا ہیرو (Hero of Ladies) کہا جاتا تھا۔ ڈیوڈ گاور کو اپنے دورکا بائیں ہاتھ سے کھیلنے والا بہترین بلے باز تسلیم کیا جاتا تھا۔ ان کے سٹروکس قابل دید ہوتے تھے۔

مارک بائوچر

ان کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ یہ جتنے اچھے وکٹ کیپر بلے باز تھے اتنے ہی ہینڈسم بھی تھے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد ان کی دیوانی تھی۔ انہوں نے تینوں قسم کی کرکٹ کھیلی۔ مارک بائوچر کو تاریخ کے بہترین وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے یاد کیاجاتا ہے۔ ٹیسٹ میچز میں انہوں نے سب سے زیادہ کھلاڑیوںکو آئوٹ کیا۔ انہوں نے 532 کیچز پکڑے جبکہ مجموعی طور پر 555 کھلاڑیوںکو آئوٹ کیا۔ مارک بائوچر نے ورلڈکپ میچز میں بھی متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کے دوران بہت محنت کی۔ یہ درست ہے کہ ایڈم گلکرسٹ‘ ایم ایس دھونی اور کمار سنگاکارا نے بھی وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے بڑا نام کمایا لیکن مارک بائوچر کا اپنا ایک مقام ہے۔ قدرت نے انہیں حسن کی دولت سے بھی نواز رکھا تھا۔ اس لیے ان کی شہرت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ بدقسمتی سے 2012میں ان کی بائیں آنکھ زخمی ہو گئی جس کی وجہ سے وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز نہ کھیل سکے۔ پھرانہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ مارک بائوچر اپنے خوبصورت کھیل اورحسن و جمال کی وجہ سے کرکٹ کی تاریخ میں زندہ رہیں گے۔

بریٹ لی

آسٹریلیا کے اس برق رفتار بائولر نے شعیب اختر کے بعد سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔ وہ شعیب اخترکے دوست بھی تھے۔ انہوں نے آسٹریلیا کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ گلین میگرا کے ساتھ ان کی جوڑی بڑی مشہور ہوئی۔ ان کی سوئنگ بائولنگ‘ یارکرز اور بائونسرز کسی بھی بلے باز کیلئے بڑے خطرناک ثابت ہوتے تھے۔ انہوں نے شروع سے ہے ا پنی برق رفتار بائولنگ کی دھاک جما دی تھی۔ انہوں نے تینوں قسم کی کرکٹ کھیلی اور خوب نام کمایا۔ 2000کی دہائی میں انہوں نے بڑی شہرت حاصل کی۔ وہ کبھی کبھی اچھی بلے بازی بھی کر لیتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی شین لی بھی اپنے زمانے کے اچھے آل رائونڈر تھے۔

بریٹ لی بہت ہینڈسم تھے۔ ان کی مردانہ وجاہت کی بھی بڑی دھوم تھی۔ آسٹریلیا کی بے شمار لڑکیاں ان سے شادی کی آرزومند تھیں۔ وہ بھارت میں خاصے مقبول تھے اور ایک زمانے میں بھارتی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے۔وہ شروع سے ہی برق رفتار بائولر بننے کے خواہشمند تھے۔ بریٹ لی کی فاسٹ بائولنگ نے اس وقت کے آسٹریلوی کپتان سٹیووا کو بڑا متاثر کیا۔ انہوں نے ہی لی کو انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ انتہائی پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ دراز قد بریٹ لی نے اپنے حسن و جمال کی وجہ سے بہت شہرت پائی۔

شاہد آفریدی

کیا بات ہے لالہ شاہد آفریدی کی۔ 1996 سے لے کر اب تک پاکستان کے اس بے مثال آل رائونڈر نے پوری دنیا میں اپنے کھیل اور حسن کا سکہ جمایا۔ وہ اس وقت بھی بڑے پرکشش تھے جب وہ داڑھی کے بغیر کھیلتے تھے۔ کم عمری میں ہی ان کی خوبصورتی کے چرچے ہونے لگے۔ پھر ان کے جارحانہ کھیل نے ان کی شہرت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ داڑھی رکھنے کے بعد بھی ان کی وجاہت میں کمی نہیں آئی۔ وہ اپنے زمانے میں خواتین کے سب سے زیادہ پسندیدہ کرکٹر تھے اور خواتین بھی کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی۔بنگلہ دیشی لڑکیاں تو ان کی بہت زیادہ دیوانی تھیں۔ ایک دفعہ وہ ڈھاکہ گئے تولڑکیوں نے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا (Please marry me) (براہ مہربانی مجھ سے شادی کر لو)۔

ان کی کشش آج بھی برقرارہے اور عمران خان کی طرح ان کے پرستار بھی پوری دنیا میں موجود ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ کئی بار جلدی آئوٹ ہو جاتے تھے لیکن جب وہ وکٹ پر تھوڑی دیر تک ٹھہر جاتے تھے تو رنز کے ڈھیر لگا دیتے تھے۔ ان کے چھکوں اور چوکوں کی تعداد بھی یاد نہیں رہتی تھی۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ بھی کھیلی لیکن بعد میں اپنے آپ کوایک روزہ اور T20میچوں تک محدود کر لیا۔ وہ ایک عمدہ لیگ سپنر بھی تھے اور ان کی فیلڈنگ بھی لاجواب تھی۔ شاہد آفریدی کو ’’بوم بوم‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ شروع شروع میں ایک بھارتی اداکارہ کے ساتھ ان کا نام لیا جاتا تھا۔ بہرحال وہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش کردار ہیں جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں مشہور تھے۔

مائیکل کلارک

یہ آسٹریلوی بلے باز اپنے کھیل کے علاوہ اپنے حسن کی وجہ سے بھی بہت مشہور تھا۔ 2اپریل 1981 کو پیدا ہونے والے مائیکل کلارک نے 6اکتوبر 2009 کو اپنا پہلا ٹیسٹ بھارت کے خلاف کھیلا۔ انہوں نے ہر طرز کی کرکٹ کھیلی۔ ان کا شمار آسٹریلیا کے بہترین بلے بازوں میں کیا جاتا ہے۔ مائیکل کلارک شاندارکھلاڑی تو تھے ہی لیکن ان کی خوبصورتی کے بھی بڑے چرچے تھے۔ ان کے ساتھ بھی بہت خواتین شادی کرنا چاہتی تھیں۔ا یسا کرکٹر جو اپنے کھیل میں بھی لاثانی ہو اورپھر اس کے حسن کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتاہو‘ اس کے مداحین کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

رچرڈ سنیل

جنوبی افریقہ کے اس کرکٹر نے بہت کم کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچز اور 42ایک روزہ میچز میں حصہ لیا۔ انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچز میں 28.3رنز کی اوسط سی 19وکٹیں اپنے نام کیں۔ اسی طرح 42ایک روزہ میجز میں رچرڈ سنیل نے 35.8 رنز کی اوسط سے 44وکٹیں حاصل کیں۔ وہ برق رفتار بائولر تھے لیکن زیادہ دیر تک کرکٹ نہ کھیل سکے۔ انہوں نے 1991سے 1996تک کرکٹ کھیلی۔ ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب جنوبی افریقہ پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل گئے تو اسکے بعد جس ٹیم نے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا اس کی پہلی وکٹ رچرڈ سنیل نے حاصل کی۔ ورلڈکپ 1992کھیلنے کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر گئی۔ 22برس کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم نے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ اس ٹیم کو ٹیسٹ میچ کھیلنے کا تجربہ نہیں تھا۔ یہیں پر رچرڈ سنیل نے پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی اور یہ وکٹ پی وی سمنز کی تھی۔ جسے سنیل کی گیند پر کرسٹن نے کیچ کیا۔ سنیل نے اس میچ کی دونوں اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں۔ یہ 1993کی بات ہے۔ سوائے کیپلر ویسلز کے کسی جنوبی افریقہ کے کھلاڑی کے پاس ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا تجربہ نہیں تھا۔ رچرڈ سنیل ایک بڑے پرکشش کرکٹر تھے اور ان کے کھیل سے زیادہ ان کی خوبصورتی کی تعریف کی جاتی تھی۔ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ زیادہ دیر تک نہ کھیل سکے لیکن ان کے حسن و جمال کو آج بھی یاد کیا جاتاہے۔

کرس کینز

گھنگھریالے بالوں والے نیوزی لینڈ کے اس کرکٹر نے بھی اپنے کھیل اور خوبصورتی کی وجہ سے بہت شہرت حاصل کی۔ وہ آل رائونڈر تھے اور ان کے والد لانس کینز بھی بڑے عمدہ کرکٹر تھے۔ وہ ایک روزہ میچز میں ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ 13جون 1970 کو پیدا ہونے والے کرس کینز نے 24نومبر 1989کوآسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

تحریر: عبدالحفیظ ظفر