تازہ ترین
  • بریکنگ :- مریم نواز کا وزیراعظم عمران خان کےبیان پر ردعمل
  • بریکنگ :- جس دن آپ اقتدارسےنکلےعوام شکرانےکےنفل اداکریں گے،مریم نواز
  • بریکنگ :- نہ آپ نوازشریف ہیں جس کےپیچھےعوام کھڑی تھی نہ بیچارےاورمظلوم ہیں،مریم نواز
  • بریکنگ :- آپ سازشی ہیں،مکافات عمل کاشکارہوئے،مریم نواز
  • بریکنگ :- عمران خان کے ہر لفظ میں ناکامی ہے ،مریم نواز
  • بریکنگ :- عمران خان کواپنےاورپی ٹی آئی کےمستقبل سےکوئی امید نہیں تھی،مریم نواز
  • بریکنگ :- عمران خان! اب رونےدھونےاورڈرامہ کرنےکاکوئی فائدہ نہیں،مریم نواز
  • بریکنگ :- آپ سامان اٹھائیں اورچلتےبنیں،نائب صدر(ن) لیگ مریم نواز
  • بریکنگ :- جتنی دیراقتدارمیں رہیں گےعوامی مشکلات میں مزیداضافہ ہوگا،مریم نواز
  • بریکنگ :- آپ کی دھمکیاں اقتدارسےنکالاگیاتومزید خطرناک ہو جاؤں گا، گیدڑبھبکیاں ہیں،مریم نواز

کراچی: کورونا ویکسین کے جعلی سرٹیفکیٹ بنانے والا بڑا گینگ پکڑ لیا گیا

Published On 27 October,2021 06:24 pm

کراچی:(دنیا نیوز)ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے کراچی میں کارروائیاں کرتے ہوئے کورونا ویکسین کے جعلی سرٹیفکیٹ اور کورونا نیگیٹو رپورٹس بنانے والا بڑا گینگ پکڑ لیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ عمران ریاض نے پریس کانفرنس میں بتایہ کہ کارروائی کے دوران گینگ کے 11کارندوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، ملزمان نیمز آئی ڈی کا استعمال کر کے ویکسین کا جعلی ڈیٹا انٹری کرتے تھے،جعلی کورونا ٹیسٹ بھی کرا کر جعلی رپورٹس تیار کرتے ہیں۔

عمران ریاض نے مزید کہا کہ ویکسین نہ لگوانے والے افراد ملزمان سے جعلی کورونا ویکسین سرٹیفیکٹ بنواتے ہیں، سرٹیفیکٹ کے عوض 35 سے 40 ہزار لیتے تھے، جن افراد نے جعلی ویکسین سرٹیفکیٹ لیے ہیں یا کوویڈ ٹیسٹ کرایا ہے تو کریک ڈائون ہوگااور سارے سرٹیفیکٹ کنیسل ہونگے جبکہ خاتون سرکاری ملازم بھی گرفتار ملزمان میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گینگ کے کچھ کارندے فرار ہیں، ابتک 15 سو کے قریب جعلی کورونا ٹیسٹ کے شواہد ملے ہیں،سرٹیفکیٹ بھی بڑی تعداد میں بنوائے گئے ہیں، جن کو ٹریک کررہے ہیں، نیٹ ورک میں 2 ملازم محکمہ ہیلتھ کے ہیں، نیٹ ورک میں ٹریول ایجنٹ سمیت دیگر افراد بھی ملوث ہیں جبکہ نیٹ ورک کے موبائل فونز اور دیگر چیزوں کا فارنزک کیا جارہا ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے کہا کہ نادرا نے نیمز آئی ڈیز بنا کر ہیلتھ ورکرز کو دی ہیں، ان کو استعمال کیا جارہا تھا، جعلی کورونا ویکسین ٹیسٹ کرا کر باہر جانے کے کیے استعمال کیا جاتا تھا، اور یہ لوگ ویکسین کا سٹاک ضائع کردیتے تھے۔