تازہ ترین
  • بریکنگ :- عمران خان کےقومی اسمبلی کے 9 حلقوں سےکاغذات نامزدگی جمع
  • بریکنگ :- عمران خان بیک وقت مردان،چارسدہ،پشاور،کرم،فیصل آبادسےالیکشن لڑیں گے
  • بریکنگ :- عمران خان ننکانہ، ملیر، کورنگی اورکراچی ساؤتھ سے بھی انتخاب لڑیں گے
  • بریکنگ :- این اے 22، 24، 31اوراین اے 45 سےعمران خان کےکاغذات نامزدگی جمع
  • بریکنگ :- این اے 108، 118، 237، این اے 239 اور 246 سے بھی کاغذات جمع
  • بریکنگ :- خیبرپختونخوامیں خواتین کی مخصوص نشست کیلئےبھی کاغذات جمع
  • بریکنگ :- شاندانہ گلزارخان،روحیلہ حامد،مہوش علی نےکاغذات نامزدگی جمع کرائے
  • بریکنگ :- تمام 9 حلقوں میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانےکاعمل مکمل
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن شیڈول کےمطابق 9حلقوں میں انتخاب 25 ستمبرکوہوگا

فیس بک اور انسٹا گرام نے ایک کروڑ 60 لاکھ جعلی پوسٹیں ڈیلیٹ کر دیں

Published On 17 June,2021 10:42 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث جعلی خبریں درد سر بنی ہوئی ہیں، ان خبروں پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم متحرک ہوئے ہیں، سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائٹ فیس بک اور انسٹا گرام نے کورونا وائرس کے شروع ہونے سے لیکر اب تک 1 کروڑ 90 لاکھ پوسٹوں کو ڈیلیٹ کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث جعلی خبریں درد سر بنی ہوئی ہیں، مہلک وباء کی شروعات سے لیکر اب تک دنیا بھر میں کروڑوں لوگ گھر بیٹھ کر خبریں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم اس دوران جعلی خبریں سوشل میڈیا پر اپنی دھاک بیٹھائے ہوئے ہیں۔ ان خبروں پر قابو پانے کے لیے مختلف ممالک سخت رولز متعارف کروا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائٹ فیس بک اور انسٹا گرام پر گزشتہ چند ماہ کے دوران جعلی خبروں پر قابو پانے کے لیے متحرک ہیں، کورونا وباء کی شروعات سے لیکر اب تک دونوں پلیٹ فارم سے اب تک ایک کروڑ 80 لاکھ پوسٹیں ڈیلیٹ کی جا چکی ہیں جن کا تعلق فیک معلومات سے ہے۔

فیس بک حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے والی 16 کروڑ 70 لاکھ پوسٹوں کو جانچ پڑتال کے بعد جعلی قرار دیا گیا ہے۔ ان جعلی مواد میں کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات بھی موجود ہیں۔

فیس حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق پھیلنے والی غلط معلومات پر قابو پانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ کیونکہ میڈیکل سے متعلق غلط معلومات معاشرے میں تناؤ پیدا کر سکتی ہیں۔ کیونکہ کورونا وائرس سے متعلق بہت سارا مواد آن لائن سطح پر موجود ہے۔