تازہ ترین
  • National :- بھارت نے 5غیرملکی صحافیوں کوپاکستان آنےکی اجازت دینےسےانکارکیاہے،فوادچودھری
  • National :- غیرملکی صحافیوں نے 5اگست کوآزادکشمیراسمبلی کےاجلاس میں شرکت کرناتھی،فوادچودھری
  • National :- بھارت غیرملکی صحافیوں کودورہ کشمیراورحقائق کی رپورٹنگ کرنےدے،فوادچودھری
  • National :- چاہتے ہیں دنیا دیکھے آزاد کشمیر میں کیا ہو رہا ہے،اسدعمر

’سیاسی رہنما فیس بک پر گمراہ کن مواد پوسٹ نہیں کر سکیں گے‘

Published On 16 June,2021 06:32 pm

نیویا رک: (دنیا نیوز) سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر سیاسی رہنماؤں کو دیا گیا ایک خصوصی استثنیٰ واپس لیے جانے کا امکان ہے۔ فیس بک سیاسی رہنماؤں کو حاصل اس استثنیٰ کو واپس لینے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے تحت انہیں 'گمراہ کن' یا 'غیر مہذب' مواد پوسٹ کرنے کی اجازت تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا ارادہ ہے کہ وہ سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی اسی معیار کو رکھے جو دیگر صارفین کے لیے ہے۔

 اے ایف پی  نے امریکی ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ  دی ورج  کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو ان کے عہدوں کے تحت دیا گیا یہ متنازع استثنیٰ ایک ہفتے میں ختم کیا جا سکتا ہے۔

دی ورج کے مطابق فیس بک مواد کے قواعد توڑنے والے اکاؤنٹس کو سٹرائکس بھیجنے سے متعلق مزید شفافیت کی بھی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ مذکورہ معاملے پر ردِ عمل کے لیے فیس بک سے رابطہ کیا گیا۔ تاہم، فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

فیس بک کی پالیسی میں یہ تبدیلی ایک آزادا نگران بورڈ کے جائزے کے بعد سامنے آ رہی ہے۔ بورڈ نے کہا تھا کہ فیس بک کے پاس یہ حق تھا کہ وہ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 جنوری کو امریکی کیپٹل سے متعلق تبصرے میں مداخلت کرتی۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیس بک اور انسٹاگرام سے اس وقت معطل کیا گیا تھا جب انہوں نے الیکشن میں ناکامی کے بعد اپنے مشتعل حامیوں کے کیپٹل ہل پر حملے کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔

ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو کہا تھا کہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ لوگ بہت خاص ہیں۔

تاہم اس پینل نے کمپنی کے سربراہ مارک زکر برگ کے کورٹ میں گیند ڈالتے ہوئے فیس بک کو واضح کرنے کے لیے 6 ماہ دیے تھے کہ پابندی کیوں مستقل ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی پلیٹ فارم کے سیلف ریگولیشن کے منصوبے میں کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔

نگرانی کرنے والے پینل کے شریک چیئرمین مائیکل مک کونیل نے’فوکس نیوز سنڈے‘ کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ٹرمپ نے کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں کو حوصلہ افزائی کی تھی۔ لہٰذا فیس بک نے ان پر پابندی لگائی۔ البتہ سوشل میڈیا کمپنی کے قواعد میں  گڑ بڑ  ہے اور اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

مارک زکر برگ کا خیال ہے کہ جب بات لوگوں کی کہی باتوں پر آتی ہے تو نجی کمپنیوں کو سچ کا قاضی نہیں بننا چاہیے۔

ادھر ڈیموکریٹس غلط معلومات روکنے میں ناکامی پر آن لائن پلیٹ فارمز پر تنقید کرتے ہیں۔ تو دوسری جانب ری پبلکنز کا مؤقف ہے کہ سوشل نیٹ ورکز قدامت پسندوں کے خلاف جانب دار ہیں۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورِ صدارت میں سوشل میڈیا پر خاصے متحرک رہتے تھے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وہ اپنے لاکھوں فالورز کی توجہ کا مرکز رہتے تھے۔ اپنے بیانات میں وہ سیاسی مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف جارحانہ بیانات دیا کرتے تھے۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنے حامی ری پبلکنز کی کھل کر حمایت جب کہ اپنی ہی پارٹی کے بعض رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے تھے۔

البتہ، جنوری میں ٹوئٹر اور فیس بک نے صدارت کے منصب پر فائز ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹس معطل کرتے ہوئے اُن پر مستقل طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔

ٹرمپ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اُنہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے حامیوں کو حملے کے لیے اُکسایا اور ان پر زور دیا کہ وہ کیپٹل ہل جائیں اور قانون سازوں کو الیکٹورل کالج کے انتخابی نتائج کی توثیق سے روکیں۔ تاہم، ٹرمپ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔