تازہ ترین
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید567 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 67 ہزار 393 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 24 ہزار 386 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 16 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 344 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 864 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 12 لاکھ 14 ہزار 663 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 39 ہزار 200 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 2 کروڑ 4 لاکھ 5 ہزار 357 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 1704 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 38 ہزار 636،سندھ میں 4 لاکھ 66 ہزار 945 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 77 ہزار 240،بلوچستان میں 33 ہزار 159 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد ایک لاکھ 6 ہزار 615،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 376 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 34 ہزار 422 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.44 فیصدرہی،این سی اوسی

ہر 6 میں سے ایک خبر جھوٹی، بھارت جعلی خبروں کا گڑھ بن گیا

Published On 25 September,2021 10:12 pm

مونٹریال: (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کی بیماری آنے کے بعد فوری طور پر ایک وباء پھوٹ پڑی جس نے دنیا بھر کو خوف میں مبتلا کیا ہوا ہے، یہ بیماری جعلی خبریں ہیں، اس وقت کورونا وائرس سے متعلق سب سے زیادہ جعلی خبریں بھارت سے پھیل رہی ہیں اور عالمی وبا کے دوران دنیا میں کووڈ 19 کی جھوٹی معلومات کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ اس وبا کے بارے میں ہر 6 میں سے ایک خبر جھوٹی ہے۔

کینیڈا کی البرٹا یونیورسٹی کے محقق کی طرف سے انٹرنیشنل فیڈریشن آف لائبریری ایسوسی ایشنز اینڈ انسٹی ٹیوشنز جریدے میں شائع تحقیق 138 ممالک میں غلط معلومات کے 9،657 ٹکڑوں کا احاطہ کرتی ہے۔

تحقیق میں پچھلے سال یکم جنوری سے رواں سال یکم مارچ تک پھیلائی گئی جھوٹی معلومات کو پرکھا گیا جس میں انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں کا مواد بھی شامل ہے۔

تحقیق کے مصنف ڈاکٹر محمد سعید الزمان کے مطابق مطالعے میں استعمال ہونے والا ڈیٹا، پوائنٹرز کے عالمی فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک آئی ایف سی این (IFCN )کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ آئی ایف سی این کے پاس اس وقت پوری دنیا سے اکٹھا کیا گیا کووڈ 19 کا غلط معلومات کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا میں غلط معلومات پھیلانے کا سب بڑا ذریعہ سوشل میڈیا ہے جہاں سے پھیلائی گئی جھوٹی معلومات کا حصہ 85 فیصد ہے۔ مجموعی طور پر 91 فیصد جعلی خبریں انٹرنیٹ کے ذریعے (بشمول سوشل میڈیا) پھیلائی گئی ہیں ۔ اس میں سب سے بڑا حصہ بھارت کا (18فیصد ) ہے ۔ اس کے بعد برازیل (9 فیصد ) اور تیسرے نمبر پر امریکا (8.6 فیصد ) ہے۔ بھارت سے پھیلائی گئی جھوٹی معلومات کی مقدار بھی سب سے زیادہ یعنی 16 فیصد ہے جبکہ اس کے بعد امریکا (9.7 فیصد) اور برازیل (8.6فیصد ) ہے۔

محقق ماہرین کے مطابق کمزور انفارمیشن اور کمیونیکیشن انفراسٹرکچر ، کم (ڈیجیٹل) انفارمیشن لٹریسی، لوگوں میں شعور اور معاشرے میں رہنے والے تعصبات بھارت میں زیادہ کووڈ 19غلط معلومات کی بنیادی وجوہات ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ کسی ملک میں وبا کی زیادہ خراب صورتحال سے جڑا ہو۔

ماہرین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ سر فہرست ممالک میں غلط معلومات کسی حد تک وبا کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سے مطابقت رکھتی ہیں۔ کیونکہ کورونا سے متاثرہ ٹاپ 15 ممالک میں بھارت ، امریکا، برازیل، سپین، فرانس، ترکی، کولمبیا، ارجنٹائن، اٹلی اور میکسیکو شامل ہیں۔