تازہ ترین
  • بریکنگ :- ٹاؤن کمیٹی کنڈیارو کے وارڈنمبر 11 کے پولنگ اسٹیشن کامکمل غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- کنڈیارو: پیپلز پارٹی کے اکرم قریشی 650 ووٹ لے کر کامیاب
  • بریکنگ :- کنڈیارو:جے یو آئی کے عطااللہ 550 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر
  • بریکنگ :- نوکوٹ :ٹاؤن کمیٹی وارڈ نمبر 6 کامکمل غیرسرکاری غیر حتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- نوکوٹ: آزاد امیدوار عرفان خورشید 384 ووٹ لے کر کامیاب
  • بریکنگ :- نوکوٹ:پیپلزپارٹی کے برکت کورائی 203 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر
  • بریکنگ :- پنوعاقل: میونسپل کمیٹی کےوارڈنمبر 6 کامکمل غیرسرکاری غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- پنوعاقل : جےیو آئی کے پجارام 147 ووٹ لےکرکامیاب
  • بریکنگ :- پنوعاقل: پیپلزپارٹی کےعبدالجبارشیخ 83 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر
  • بریکنگ :- پنوعاقل:میونسپل کمیٹی کےوارڈنمبرون کا مکمل غیر حتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- پنوعاقل : پیپلزپارٹی کےسلیم غنی 435 ووٹ لےکر کامیاب
  • بریکنگ :- پنوعاقل: جے یو آئی کے عبدالجلیل کلہوڑو 72 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر
  • بریکنگ :- جيکب آباد:میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 16کا مکمل غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کے محمد آصف مغیری 1354ووٹ لےکرکامیاب
  • بریکنگ :- ٹی ایل پی کےسلمان قادری 282 ووٹ لےکر دوسرےنمبرپر
  • بریکنگ :- جیکب آباد : میونسپل کمیٹی وارڈ نمبر 5 کا مکمل غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- جیکب آباد :پیپلزپارٹی کےغوث بخش مغیری 1359ووٹ لےکرکامیاب
  • بریکنگ :- جیکب آباد: آزاد امیدوار منور سومرو 439 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر
  • بریکنگ :- شہدادکوٹ: میونسپل کمیٹی کے وارڈ نمبر 6 کامکمل غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- شہدادکوٹ:آزاد امیدوارکرم خان مگسی 642 ووٹ لےکر کامیاب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کے قربان علی سومرو 472 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر

مسلسل ایئر کنڈیشن کا استعمال کورونا کیسز بڑھاتا ہے: امریکی پروفیسر نے خدشہ ظاہر کر دیا

Last Updated On 01 July,2020 06:11 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی گرمی سے بچنے کے لیے گھروں میں ائیر کنڈیشن (اے سی) کا استعمال بڑھا دیا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں اے سی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے؟

ہارورڈ گزٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ہارورڈ یونیورسٹی کے میڈیکل سکول کے پروفیسر ایڈورڈ نارڈیل کا کہنا ہے کہ ان دنوں کورونا وائرس کے کیسز وہاں زیادہ دیکھے گئے ہیں جہاں مسلسل ائیر کنڈیشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پروفیسر نارڈیل کے مطابق عام طور پر کورونا وائرس چھینکنے اور کھانسنے سے ہوا میں معلق ہونے والے ذرات سے پھیلتا ہے لیکن اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ یہ وائرس ائیربون یعنی ہوا سے بھی انسانی جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں اے سی ہوتا ہے وہ کمرہ یا جگہ کور یعنی بند ہوتی ہے اور ادھر جراثیم شدہ بوندیں سطح پر جذب ہونے سے پہلے تھوڑی دیر تک ہوا میں معطل رہتی ہیں جس سے انفیکشن پھیل سکتا ہے۔

پروفیسر نارڈیل نے مزید بتایا کہ جب لوگ گرمی سے گھر کے اندر داخل ہوتے ہیں تو اے سی کی ہوا کا تھوڑا سا جھونکا بھی خطرناک طریقے سے متاثر کرسکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت میں اے سی کی ہوا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے لہٰذا اے سی کا استعمال ضرورت کے حد تک کیا جائے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2003 میں ’سارس‘ وبا کے بعد کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ چند اونچی عمارتیں جو اے سی ٹیکنالوجی سے لیس تھیں ادھر یہ انفیکشن آلودہ ہوا کے باعث خوب پھیلا اور کووڈ 19 بھی ’سارس‘ کے سرکل سے تعلق رکھتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے سی کی صاف ستھرائی پر دھیان دینا چاہیے تاکہ اس کے اندر جمنے والی آلودہ ہوا صحت کو بیماریوں سے بچا سکے۔