تازہ ترین
  • بریکنگ :- شہبازشریف کی گیس کی قیمتوں میں 35فیصداضافےکی تجویزکی مذمت
  • بریکنگ :- لاہور:حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کررہی ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- حکومت نےقوم سےٹیکس فری بجٹ کاجھوٹ بولاتھا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ہم نےجوکچھ کہاآج سچ ثابت ہورہاہے،اپوزیشن لیڈرشہبازشریف
  • بریکنگ :- پہلےہی گیس اوربجلی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوچکاہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- لاہور:قیمتوں میں مزیداضافہ مسئلےکاحل نہیں ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- مسئلہ حکمرانوں کی نااہلی اورکرپشن ہے،اپوزیشن لیڈرشہبازشریف
  • بریکنگ :- حکومت ملکی معیشت کانائن الیون کرچکی ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- حکومت کومعیشت کی" الف ب" بھی معلوم نہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- قوم کومہنگائی سےمارنےکےبجائےعمران خان گھرچلےجائیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کہاتھابجٹ کےبعدمہنگائی اورٹیکسوں کانیاسیلاب آئےگا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- گیس کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی ایک اورسنگین حماقت ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- عوام مزیدمہنگائی برداشت نہیں کرسکتے،ظلم درظلم بندکیاجائے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- عمران خان اپنی حماقتوں سےملک میں خانہ جنگی کرانےپرتلےہیں،شہبازشریف

نامناسب خوراک وزن کے علاوہ بچوں کے قد پر اثر انداز ہوتی ہے: برطانوی تحقیق

Published On 09 November,2020 06:27 pm

لندن: (ویب ڈیسک) برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سکول جانے کی عمر کے بچوں کو ناکافی خوراک دستیاب ہونے کا اثر ان کے قد پر پڑتا ہے، جس سے قد آور اور چھوٹے قد والی قوموں کے بچوں کے قد میں اوسطاً 20 سینٹی میٹر یا 7.9 انچ کا فرق آ جاتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 2019ء میں دنیا کے سب سے طویل قامت 19 برس کے لڑکوں کا تعلق ہالینڈ سے تھا جن کا قد 6 فٹ تھا اور دنیا کا سب سے کم قامت 19 برس کے لڑکے کا تعلق ملک تمور لیستے سے تھا جس کا قد صرف پانچ فٹ تین انچ تھا۔

برطانیہ دنیا کے مخلتف ملکوں کے شہریوں کے قد کے اعتبار سے مرتب کی گئی فہرست میں کچھ درجے نیچے چلا گیا ہے۔ 2019 میں اس کے 19 برس کے لڑکے اپنے قد کے اعتبار سے دنیا بھر کے ملکوں میں 39ویں نمبر پر تھے جن کے قد اوسطاً پانچ فٹ دس انچ ریکارڈ کیے گئے جبکہ 1985 میں برطانیہ دنیا بھر میں 28ویں نمبر پر تھا۔ یہ تحقیق بین الاقوامی شہرت کے حامل طبی جریدے دا لینسٹ میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق دنیا بھر کے ملکوں کے بچوں کے قد اور وزن کا ریکارڈ رکھنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ ان اعداد و شمار سے ان ملکوں میں بچوں کو دستیاب خوراک، صحت کی سہولیات اور صحت مند ماحول اور فضا میسر ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

لینسٹ کی ٹیم نے ساڑھے چھ کروڑ بچے، جن کی عمریں پانچ سے 19 برس کے درمیان تھیں، کا 1985 سے لے کر 2019 تک دو ہزار سے زیادہ مرتبہ مشاہدہ کیا۔

ان تجزیوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سنہ 2019 میں دنیا بھر میں شمالی، مغربی اور وسطی یورپ میں پرورش پانے والے بچوں اور نوجوانوں کے قد سب سے زیادہ ہیں۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 19 سال کی عمر کے نوجوانوں میں سب سے کم قد جنوب اور جنوبی مشرقی ایشیا، لاطینی امریکی اور مشرقی افریقہ کے خطے کے ملکوں میں بسنے والے نوجوانوں کا ہے۔

تحقیق کاروں نے بچوں کے بی ایم آئی کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔ بی ایم آئی ایک ایسا طریقہ کار یا معیار ہے جس میں بچوں کے وزن اور قد دنوں کو دیکھا جاتا ہے۔

تحقیق کاروں کو معلوم ہوا ہے کہ بحرالکاہل کے جزائر، مشرق وسطی، امریکا اور نیوزی لینڈ میں بسنے والے نوجوانوں کا بی ایم آئی سب سے زیادہ ہے۔ 19 سال کے نوجوانوں میں سب سے کم بی ایم آئی جنوب ایشیا کے ملکوں مثلاً بنگلا دیش اور بھارت کے نوجوانوں کا ہے۔

تحقیق کے مطابق جن ملکوں کے نوجوانوں کا بی آئی ایم سب سے زیادہ ہے اور جن ملکوں کے نوجوانوں کا بی ایم آئی سب سے کم ہے ان کے وزن کا اوسط فرق 25 کلو گرام ہے۔ تحقیق کار اس بات کا اعتراف کرتے ہے کہ لوگوں کے قد اور وزن کا تعلق ان کی جینیات سے بھی ہوتا ہے لیکن جب معاملہ پوری قوم کی صحت کا آتا ہے تو اس میں خوراک اور ماحول بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

وہ اس بات پر بھی بحث کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر خوراک کی دستیابی کے بارے میں پالیسی سازی کا مرحلہ آتا ہے تو پوری توجہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو دستیاب خوراک پر دی جاتی ہے لیکن ان کے خیال میں اس سے بڑی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی نشوونما پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔

برطانوی امپیریل کالج کی ڈاکٹر اندرے رودریگوز مارتینز ،جو تحقیق میں پیش پیش رہی ہیں، کا کہنا ہے کہ بچپن اور بلوغت میں صحتمند وزن اور قد کے فوائد زندگی بھر حاصل ہوتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج سے ایسی پالیسیاں بنانے کی حوصلہ افزائی ہو گی جو صحتمند خوراک کی وافر مقدار اور کم قیمت دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد گار ثابت ہوں، جس سے بچوں اور نوجوانوں کی بہتر نشوونما ہو سکے اور غیر ضروری طور پر موٹا ہونے کے بجائے ان کے قد اور وزن میں توازن برقرار رہے۔

انھوں نے کہا کہ ان پالیسی اقدامات میں کم آمدن والے گھرانے کے بچوں کو مفت خوراک کے واؤچرز کی تقسیم شامل ہے تاکہ ان کو مناسب خوراک دستیاب ہو سکے اور سکول کے بچوں کو مفت اور صحت مند خوراک کی فراہمی شامل ہو۔