تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 8 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 745 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 377 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 137 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.85 فیصدرہی،این سی اوسی

یو این اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کا خطاب دنیا دیکھے گی: شاہ محمود قریشی

Last Updated On 14 September,2019 09:09 pm

ملتان: (دنیا نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والے وزیراعظم عمران خان کے خطاب کو دنیا دیکھے گی۔

 

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کے منہ پر مٹی ڈالی جاتی ہے، بچوں پر بدترین تشدد کیا جا رہا ہے۔ کشمیرکے نوجوانوں کوبجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔

 

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے چہرے کو جنیوا میں بے نقاب کیا، جنیوا میں 58ممالک نے پاکستان کے بیانیے کا ساتھ دیا۔ دنیا کے ہردارالحکومت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سفارتی کوششوں کیساتھ مسئلہ کو پوری دنیا میں اجاگر کیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وادی میں موبائل،انٹرنیٹ سروس بند ہے، کرفیو کو چالیس روز ہو گئے، محرم میں بھارتی فوج نے کشمیرمیں امام بارگاہوں پرحملہ کیا۔ دنیا بھر میں آج مسئلہ پربحث ہو رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرکی نئی نسل بھارتی مظالم کیخلاف کھڑی ہو گئی، اوآئی سی نے بھی کشمیرمیں کرفیوہٹانے کا مطالبہ کیا۔ عالمی پریشرکوبڑھانے کے حوالے سے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری گیارہ نومبر کو حسب معمول مکمل ہو گا، افغانستان کا مسئلہ جنگ سے نہیں مذاکرات سے حل ہو گا، افغانستان کے حوالے سے ہماری کوششیں جاری ہے، ہم چاہتے ہیں عارضی رکاوٹ کے بعد مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت سب بھارتی رویے کی مذمت کر رہے ہیں۔ انڈیا پر ہندوتوا سوچ حکمرانی کر رہی ہے، کشمیرمسئلہ پرہم دنیا کوجگانے کی کوشش کررہے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کو بھی مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے، پروڈکشن آرڈرپربات کرنا اپوزیشن کا حق ہے، اپوزیشن اپنے رویے پرنظرثانی کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایل اوسی پرفائرنگ پہلی دفعہ نہیں ہو رہی، بھارت کو لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) پرجواب دیا جاتا ہے، بھارتی آرمی چیف کا بیان گیدڑبھبھکیاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپین پارلیمنٹ، امریکی کانگریس کے لوگ بھی کشمیر مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔ 1965ء کے بعد سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیرپربات ہوئی،

وزیر خارجہ کا کہنا کہ ملتان میں میرے حلقے میں پانچ یونین کونسل میں سیوریج کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ سیوریج کا مسئلہ حل کیے بغیرسڑکیں بنانا بے معنی ہو گا، سیوریج کے بعد سڑکوں کو بنایا جائے گا۔