تازہ ترین
  • بریکنگ :- پنجاب اسمبلی میں موجودہ ارکان کی تعداد 346 ہے
  • بریکنگ :- حکومتی اتحادکوکل 176 ارکان کی حمایت حاصل
  • بریکنگ :- حکومتی اتحادمیں ن لیگ 164،پیپلزپارٹی کے 7 ارکان شامل
  • بریکنگ :- 4 آزادامیدواراورایک رکن راہ حق پارٹی کاحکومت کیساتھ ہے
  • بریکنگ :- اپوزیشن میں پی ٹی آئی کےارکان کی تعداد 158 ہے
  • بریکنگ :- لاہور:مسلم لیگ ق کےارکان کی تعداد 10 ہے
  • بریکنگ :- رکن پنجاب اسمبلی فیصل نیازی اپنی رکنیت سےمستعفی ہوچکے
  • بریکنگ :- چودھری نثارپنجاب اسمبلی کی کارروائی میں حصہ نہیں لےرہے

کراچی: پاکستان سٹاک ایکس چینج پر دہشتگردوں کا حملہ، تحقیقات میں اہم پیشرفت

Last Updated On 30 June,2020 09:32 pm

کراچی: (دنیا نیوز) پاکستان سٹاک ایکس چینج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے عزائم کیا تھے؟ اور انہوں نے کون سے راستے اختیار کئے؟ سی ٹی ڈی حکام نے پتا چلا لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے پاکستان سٹاک ایکسچینج پہنچنے کیلئے لیاری ایکسپریس وے استعمال کیا۔ دہشتگرد لیاری ایکسپریس وے غریب آباد انٹر ایکسچینج سے چڑھے اور ماڑی پور انٹر چینج سے ٹاور پہنچے۔

دہشتگرد کسٹم ہاؤس کی جانب سے ہوتے ہوئے براہ راست سٹاک ایکسچینج تک آئے۔ ممکنہ طور پر لیاری ایکسپریس وے کا راستہ سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے اختیار کیا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دہشتگردوں کا منصوبہ سٹاک ایکسچینج کے عملے کو یرغمال بنانا نہیں تھا۔ وہ گاڑی سمیت سٹاک ایکسچینج کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔

پہلے دو دہشتگرد سٹاک ایکسچینج کا بیریکیٹ کھولنے کے لیے اترے تھے۔ وہ عمارت کے اندر داخل ہو کر ممکنہ طور پر ہلاکتیں چاہتے تھے۔ ان ہلاکتوں کا مقصد ملکی معیشت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانا تھا۔

ادھر تفتیشی حکام نے غریب آباد سے سٹاک ایکسچینج تک کی جیوفینسگ مکمل کر لی ہے جبکہ غریب آباد کی طرف آنے والے تمام راستوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔