تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سینیٹ اجلاس کا رات گئے 8 نکاتی ایجنڈا جاری
  • بریکنگ :- دوروز وقفے کےبعد سینیٹ اجلاس آج صبح ساڑھے10بجے ہوگا
  • بریکنگ :- چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اجلاس کی صدارت کریں گے
  • بریکنگ :- قومی اسمبلی سےمنظور شدہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پیش کیاجائے گا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وزیرخزانہ شوکت ترین بل منظوری کیلئے پیش کریں گے
  • بریکنگ :- بل آئی ایم یف کی شرائط اوراسٹیٹ بینک کی خودمختاری سےمتعلق ہے

پاکستان سے باہر فارن کرنسی اکاؤنٹ کا آزادانہ استعمال بند کر دیا گیا

Published On 10 October,2020 10:46 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی اور شرط پوری کر دی گئی۔ پاکستان سے باہر فارن کرنسی اکاؤنٹ کا آزادانہ استعمال بند کردیا گیا۔ فارن کرنسی اکاؤنٹ کے ذریعے منی لانڈرنگ کے شکوک و شہبات ختم ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی اور کڑی شرط پوری کر دی گئی، وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق فارن ایکس چینج کمپنیوں سے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوسکے گی۔ پاکستان سے باہر فارن کرنسی اکاؤنٹ کا آزادانہ استعمال بند کردیا گیا۔ بیرون ملک فارن کرنسی اکاؤنٹ استعمال کرنے سے پہلے اسٹیٹ بینک کی اجازت لینا ہو گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بیرون ملک کرنسی کی ترسیل قانونی بنائی جائے گی۔ فارن کرنسی اکاؤنٹ کے ذریعے منی لانڈرنگ کے شکوک و شہبات ختم کر دیئے گئے۔ غیرملکی کرنسی اکاؤنٹ میں بیرون ملک بینکنگ چینل سےترسیلات کریڈٹ ہوسکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف اہداف کی تکمیل میں اہم پیشرفت، پاکستان نے رپورٹ بھجوا دی

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ برآمدات، سروسزکی ادائیگی کی رقوم غیرملکی کرنسی اکاؤنٹ میں نہیں آسکیں گی۔ ‏انفرادی غیرملکی کرنسی اکاؤنٹ میں دوسرے انفرادی غیرملکی کرنسی اکاؤنٹ سے رقم کریڈٹ ہو سکے گی۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت پاکستان کی اسکیموں کےتحت سرمایہ کاری کی پرنسپل کی رقم یامنافع کریڈٹ کیا جاسکے گا۔ ‏بیرون ملک سے پاکستان کسٹم کو ڈکلیئر کرائی گئی کرنسی غیرملکی کرنسی اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہو سکے گی۔

دوسری طرف چیئر مین فارن ایکسچینج کرنسی ڈیلرز ملک بوستان نے حکومتی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے بیرون ملک غیر ملکی کرنسی روکنے میں مدد ملے گی، سٹیٹ بینک علاج اور تعلیم کے لیے اجازت کا طریقہ کار آسان بنائے۔