جنرل اسمبلی کا امن و سلامتی کیلئے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف

Published On 10 December,2020 09:15 pm

اقوام متحدہ: (اے پی پی) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تخفیف اسلحہ سے متعلق پاکستان کی پیش کردہ 4 قراردادیں منظور کر لیں جو پاکستان کی بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر امن وسلامتی کی کوششوں کا اعتراف ہے۔

ان قراردادوں کی حمایت جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ کمیٹی کے 193 ممبران نے کی جنہوں نے پاکستان کی کوششوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان قراردادوں کو منظور کیا۔ ان 4 قراردادوں میں سے 3 قراردادیں علاقائی تخفیف اسلحہ، علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی اسلحے کے کنٹرول کے ساتھ ساتھ علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں اعتماد سازی کے اقدامات (سی بی ایم) کو فروغ دینے سے متعلق تھیں جبکہ پاکستان کی پیش کردہ چوتھی قرارداد غیرجوہری ریاستوں کے لیے امن و سلامتی کو یقینی بنانے سے متعلق تھی۔

پاکستان کی ایک قرارداد کا عنوان ’’جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا خطرہ کے خلاف غیر جوہری ریاستوں کے لیے موثر بین الاقوامی انتظامات کو یقینی بنانے کی فیصلہ سازی ‘‘ تھا جس کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں کوئی بھی ووٹ نہیں پڑا تاہم 62 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

دوسری قرارداد کا عنوان ’’ علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی اسلحہ کے کنٹرول ‘‘ تھا جس کے حق میں 183 ووٹ پڑت جبکہ اس قرارداد کی مخالفت صرف بھارت نے کی جبکہ 4 ممالک نے کوئی رائے نہیں دی۔

تیسری قرارداد کا عنوان’’ علاقائی تخفیف اسلحہ‘‘ اور چوتھی قرارداد علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات ‘‘ تھا جنہیں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ سفارتی عملہ نے کہا کہ جنرل اسمبلی ک جانب سے پاکستان کی قراردادوں کی منظوری علاقائی اور عالمی تخفیف اسلحے کے مقاصد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امن و سلامتی کو تقویت دینے کے لئے پاکستان کے عزم اور کوششوں کا اعتراف ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے متعدد خطوں خاص طور پر جنوبی ایشیا میں عدم اعتماد میں اضافے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں امن اور سلامتی کو مستحکم کرنے کے لئے تخفیف اسلحہ کے علاقائی نقطہ نظر نے زیادہ مطابقتاور اہمیت اختیار کرلی ہے اور جنرل اسمبلی اس بات کو طویل عرصے سے تسلیم کرتی ہے کہ بین الاقوامی امن و سلامتی کا انحصار علاقائی اور ذیلی علاقائی استحکام پر منحصر ہے۔

سفارتی عملے نے کہا کہ علاقائی سطح پر اس حوالے سے اقدامات سے تخفیف اسلحہ اور اسلحہ پر کنٹرول کی کوششوں اور ان پر عملدرآمد کو تقویت ملے گی۔

Advertisement