تازہ ترین
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےخیرپورٹامیوالی اوراسرانی میں تربیتی مشقوں کامشاہدہ کیا
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےمیکنائزڈدستوں کی جنگی مشقوں کامشاہدہ کیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- مشقوں میں فارمیشنزنےجارحانہ حکمت عملی کےآپریشنزکیے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےفارمیشنزکی آپریشنل تیاریوں کوسراہا، آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دشمن کوشکست دینےکیلئےچیلنجز سےنمٹنےکی تربیت ضروری ہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- پاک فوج داخلی سالمیت وملکی سلامتی کیلئےکسی خطرےسےنمٹنےکیلئے تیار ہے، آرمی چیف
  • بریکنگ :- کور کمانڈربہاولپورلیفٹیننٹ جنرل خالدضیانےآرمی چیف کااستقبال کیا
  • بریکنگ :- آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کا بہاولپورکادورہ ، آئی ایس پی آر

نیا تعلیمی سال رواں سال اگست میں شروع ہوگا، وفاقی وزیر شفقت محمود

Published On 28 January,2021 06:54 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر تعلیم شفقت محمود نے طلبہ کا ابہام دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا تعلیمی سال رواں سال اگست میں ہی شروع ہوگا۔

اس بات کا اعلان انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے کیا۔ تفصیل کے مطابق آج وزیر تعلیم شفقت محمود نے ٹویٹر صارفین کے مختلف سوالوں کے جوابات دیئے۔ سوالات پوچھنے والوں میں ٹیچرز اور طلبہ بھی شامل تھے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے نئی تعلیمی پالیسی بتاتے ہوئے کہا کہ نجی سکولز کوئی بھی کتاب استعمال کرنے میں آزاد ہونگے۔ کتاب کی تیاری سنگل نیشنل کریکلم کے اندر اندر ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: یکم فروری سےملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے کھل جائیں گے،حکومت کا حتمی فیصلہ

خیال رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی ) نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں یونیورسٹیوں سمیت تمام تعلیمی اداروں کو یکم فروری 2021ء سے کھول دیا جائے گا۔

گزشتہ روز تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے این سی او سی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے زیر صدارت منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے علاوہ وفاقی اکائیوں کے تمام چیف سیکرٹریز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملک میں تعلیمی اداروں کو کھولنے کے علاوہ کورونا ویکسین کے حوالے سے انتظامی حکمت عملی پر غور کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ یکم فروری سے ملک بھر کی یونیورسٹیز کے ساتھ پرائمری اور مڈل سکول کھول دیئے جائیں گے۔

ملک کے چاروں بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں جس میں کراچی، حیدر آباد، لاہور اور پشاور شامل ہیں، کے طلبہ 50 فیصد کے حساب سے متبادل حکمت عملی کے تحت حاضر ہوں گے۔