تازہ ترین
  • National :- اسلام آباد:وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر،معاون خصوصی ڈاکٹرفیصل کی نیوزکانفرنس
  • National :- اسلام آباد:آج وزیراعظم کوکوروناسےمتعلق سفارشات پیش کریں گے،اسدعمر
  • National :- ہم ٹارگٹڈطریقےسےبندشیں لگاتےہیں تاکہ لوگوں کوپریشانی نہ ہو،اسدعمر
  • National :- اسلام آباد:ہربارکوروناکےپھیلاؤکوروکنےمیں کامیاب ہوئے،اسدعمر

کشمیر اور جونا گڑھ کا مقدمہ مل کر لڑیں گے، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود احمد خان

Published On 19 March,2021 08:18 pm

اسلام آباد: (اے پی پی):صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ انڈیا نے ریاستی جبر اور جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1947ء میں ریاست جونا گڑھ پر ناجائز اور غیر قانونی قبضہ کیا، جونا گڑھ کا پاکستان کے ساتھ الحاق تقسیم ہند کے منصوبے کے عین مطابق تھا۔

ان خیالات کا انھوں نے نواب آف جونا گڑھ نواب محمد جہانگیر خانجی اور دیوان آف جونا گڑھ صاحبزادہ سلطان احمد علی کی قیادت میں آئے وفد سے ملاقات کے دوران کیا کشمیر ہاوس اسلام آباد میں کیا۔

نواب آف جونا گڑھ نواب محمد جہانگیر کانجی نے صدر آزاد کشمیر کو جونا گڑھ کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قیام سے پہلے ہی ریاست کے نواب اور عوام پاکستان سے الحاق چاہتے تھے، پاکستان سے الحاق عوام کی خواہش اور جمہوری رویہ کے احترام میں کیا گیا، بھارتی قبضہ ناجائز اور غیر قانونی ہے جسے کے خلاف 1948 میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں اس کا کیس دائر کیا جو ابھی تک حل طلب ہے جونا گڑھ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل ناگزیر ہے۔

نواب آف جونا گڑھ نے سردار مسعود خان کو بتایا کہ ریاست جونا گڑھ برصغیر کی دوسری اور آمدنی کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست تھی، چار ہزار مربع میل پر پھیلی ریاست کے پاس 90 میل کی ساحلی پٹی بھی تھی، ریاست انتہائی خوشحال تھی، ریاست کی اپنی فوج، اپنی بندرگاہیں، ڈاک اور ریلوئے کا نظام تھا، جونا گڑھ مکمل طور پر ایک فلاحی ریاست تھی جس میں بغیر کسی مذہبی اور صنفی امتیاز کے صحت، تعلیم اور خوراک کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری تھی۔

نواب آف جونا گڑھ نے پاکستان اور حکومت کا ریاست جونا گڑھ کو دوبارہ اپنے نقشے میں شامل کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس عمل سے پاکستان کے عزم کی توثیق ہوتی ہے جو وہ جونا گڑھ کے بارے میں رکھتے ہیں۔ نواب آف جونا گڑھ نے کہا کہ کشمیر اور جونا گڑھ ایسے مسائل ہیں جن کا حل ضروری ہے اور یہاں کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

ملاقات کے دوران دیوان آف جونا گڑھ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے صدر آذاد کشمیر کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد میں باقاعدہ طور پر جونا گڑھ ہاوس کے قیام کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلہ میں متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور جونا گڑھ کیس بارے میں سفارتی سطح پر بھرپور آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

سردار مسعود خان نے نواب آف جونا گڑھ کے آبائو اجداد کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے اپنی ریاست اور دولت کو قربان کر کے پاکستان کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ جونا گڑھ اور کشمیر کی آذادی کے لئے ہم مل کر جدوجہد کریں گے۔ سردار مسعود خان نے نواب آف جونا گڑھ کو آذاد کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور صاحبزادہ سلطان احمد علی کو دیوان آف جونا گڑھ کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔