تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد 10 فیصدسےزائد کورونا کیسزوالےاضلاع میں شامل
  • بریکنگ :- اسلام آباد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 11.8ہے
  • بریکنگ :- این سی او سی کے مطابق کورونا ایس او پیز جاری
  • بریکنگ :- ان ڈوراجتماع پر 24 جنوری سےمکمل پابندی ہوگی، نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- آؤٹ ڈورعوامی اجتماع پر 300 ویکسی نیٹڈافرادکےساتھ اجازت ہوگی
  • بریکنگ :- اسلام آبادمیں ان ڈورشادیوں پر 24 جنوری سےپابندی ہوگی،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- آؤٹ ڈورشادیوں کیلئے 300 ویکسی نیٹڈافراد کے ساتھ اجازت ہوگی
  • بریکنگ :- شادیوں کی تقریبات سےمتعلق پابندیاں 15فروری تک جاری رہیں گی،نوٹیفکیشن

اے این پی شوکاز نوٹس پر ناراض، پی ڈی ایم سے راہیں جدا کرنے کا اعلان

Published On 06 April,2021 04:35 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی طرف سے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کے بعد اے این پی نے سخت رد عمل دیتے ہوئے اپوزیشن اتحاد سے راہیں جدا کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کا اجلاس ہوا، مرکزی مجلس و عاملہ کا اجلاس مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی کی صدارت میں ہوا۔

 اجلاس کے بعد مرکزی نائب صدر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ آج پارٹی اجلاس میں شوکاز نوٹس کا جائزہ لیا گیا، پارٹی اجلاس کا ایجنڈا صرف شوکاز نوٹس تھا۔ نائب صدر کی حیثیت سے پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔ اے این پی اپوزیشن اتحاد سے تمام عہدے چھوڑ دے گی۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج بھی ڈکلیئریشن، چارٹر کے اصولوں کو ہم سپورٹ کرتے ہیں، ہم انہی اصولوں پر سیاسی سفر کو جاری رکھیں گے، کامیاب تحریک سے سلیکٹرز پر بھی دباؤ آیا، پی ڈی ایم کی کامیاب تحریک چلائی گئی۔ 

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم کا نوٹس: بلاول کی پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو سخت جواب دینے کی ہدایت

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ استعفوں پر اختلاف رائے کے باعث لانگ مارچ ملتوی کیا گیا، اےاین پی کاموقف تھاکہ متفقہ استعفوں کے بغیرلانگ مارچ بےاثرہوگا، اجلاس میں متفقہ فیصلہ ہوا اورلانگ مارچ ملتوی کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں ہمیں کیوں شوکاز نوٹس بھیجا گیا، ہمیں دیوار سے لگا دیا گیا۔ اے این پی سے جواب لینے کا اختیار صرف اسفند یار ولی کو ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے تحفظات تھے۔

امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلا مقابلہ جیتنے پر بھی وضاحت ہونی چاہیے تھی، لاڑکانہ میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی میں اتحاد ہوگیا ہے تو اس پر بھی وضاحت ہونی چاہیے تھی۔ اس شوکاز کا واضح مطلب ہے کہ یہ ہماری ساکھ کو متاثر کرنا چاہ رہے ہیں۔ کیا جلدی تھی اس نوٹس کی؟ مولانا کے صحتیاب ہونے کا انتظار کرتے اور بعد میں اجلاس بلالیتے، واضح ہے کہ کچھ جماعتیں مقاصد کیلئے پی ڈی ایم کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان پیلپز پارٹی نے بھی پی ڈی ایم کے نوٹس کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کرلیا۔ بلاول بھٹو نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو سخت جواب دینے کی ہدایت کر دی۔

نوٹس کا جواب تیار کر کے آصف زرداری اور بلاول کو بھجوایا جائے گا۔ پیپلزپارٹی نے نوٹس جاری ہونے کے بعد سی ای سی کا اجلاس بھی طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی شوکاز نوٹس کا جواب مصالحانہ کی بجائے جارحانہ انداز میں دے گی۔ پی پی شوکاز نوٹس میں ن لیگ اور پی ڈی ایم کی پالیسی کو ہدف تنقید بنائے گی۔ پیپلز پارٹی شوکاز نوٹس کے الزامات پر جلد پریس کانفرنس بھی کرے گی۔ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے اتحاد کو توڑنے کی کوششوں کا ن لیگ کو ذمہ ٹھہرائے جائے گا۔