تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن آج ہوں گے
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب

مالیاتی سکینڈل: ایف آئی اے کی درخواست پر جہانگیر ترین کے 36 اکاؤنٹس منجمد

Published On 09 April,2021 05:32 pm

لاہور: (دنیا نیوز) مرکزی بینک نے مالیاتی سکینڈؒل میں ایف آئی اے کی درخواست پر جہانگیر ترین خاندان کے 36 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے ہیں۔ 7 ارب سے زائد مالیاتی سیکنڈل میں جہانگیر ترین اور انکے بیٹے علی ترین نے تحقیقاتی ٹیم کو بیان ریکارڈ کروا دیا۔

تفصیل کے مطابق مالیاتی سکینڈل میں جہانگیر ترین خاندان کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایف آئی اے کی درخواست پر جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے 36 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق علی ترین کے 21، جہانگیر ترین کے 14 اور ان کی اہلیہ کا ایک اکاؤنٹ منجمد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب مالیاتی سکینڈل میں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین نے ایف آئی اے کی 5 رکنی ٹیم کو اپنے اپنے بیان ریکارڈ کروا دیئے ہیں۔ ایف آئی اے نے دونوں کو 5، 5 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ بھجوایا تھا۔

جہانگر ترین سے دو مقدمات جبکہ علی ترین سے ایک مقدمہ میں الگ الگ تفتیش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین سے شئیر ہولڈذرز کے ساتھ فراڈ، غیر قانونی ٹرانزیکشن اور جے کے فارمنگ کی 4 ارب 35 کروڑ میں خریداری پر سوالات پوچھے گئے۔

ایف آئی اے کی ٹیم نے علی ترین سے ان کی کمپنی جے کے فارمنگ کی فروخت، حاصل شدہ رقم کی منی ٹریل اور اس سے خریدی گئی جائیداد کی بابت تفتیش کی۔

جہانگیر ترین اور علی ترین کی ایف آئی اے آمد کے موقع پر عام شہریوں کے لیے دفتر بند رکھا گیا جبکہ کیسز کے حوالے سے آنے والے مدعیوں اور ملزمان کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔