تازہ ترین
  • بریکنگ :- سعودی قیادت نےوزیراعظم کواکتوبرمیں دورےکی دعوت دی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- 20لاکھ سےزائدپاکستانی سعودی عرب میں موجودہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کیساتھ آج کی نشست بہت مفیدرہی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی عرب کیساتھ تعلقات کوایک نیامقام دیناہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک اپنےتعلقات کونئی سطح پرلےجانےکاارادہ کرچکےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- آج پاک سعودی مشاورتی کونسل فورم کوحتمی شکل دی ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی عرب کےساتھ معاشی تعلقات مضبوط بناناچاہتےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- جب تک پاکستان معاشی طورپرمضبوط نہیں ہوگاہماری دنیامیں عزت نہیں ہوگی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستان اورسعودی عرب کاایک دوسرےپراعتمادکارشتہ ہے،شاہ محمودقریشی

زار شاہی کے 10 اہم بادشاہ، ’’زارروس‘‘ کی سلطنت 400 برس قائم رہی

Published On 18 July,2021 07:28 pm

لاہور: (سپیشل فیچر) لفظ زار روم کے مشہور جرنیل جولیس سیزر سے نکلا ہے۔ جولیس سیزر کا زمانہ زار شاہی سے 1500 برس پرانا ہے۔ آخری زار نکولس IIتھا جسے 1918ء میں قتل کر دیا گیا۔

1917ء میں روس میں بالشویک انقلاب کے بعد چار صوبوں پر محیط زار شاہی کا خاتمہ ہوا۔ ہم ذیل میں زار شاہی کے 10 اہم ترین افراد کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے جو کسی نہ کسی حوالے سے زار سلطنت کے اہم ستون رہے۔

آئیون دی ٹیریبل (1547-1584ء)

تمام زار مطلق العنان حکمران تھے۔ شہنشاہیت کے تکبر نے ان سے تمام انسانی قدریں چھین لی تھیں۔ پہلے زار آئیون دی ٹیریبل (Ivan the Terrible) بڑا جابر حکمران تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو طیش میں آ کر موت کی وادی میں اتار دیا تھا لیکن اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے روسی سلطنت کو وسیع کیا۔ اس نے استراخوان اور اور سائبیریا کو روسی سلطنت میں شامل کیا اور انگلستان سے تجارتی تعلقات قائم کیے۔ اس حوالے سے اس کی ملکہ الزبتھ سے طویل عرصے تک خط وکتابت جاری رہی۔ بعد میں اس نے روس میں طاقتور امرا ء پر قابو پایا اور مطلق العنانیت کا قانون متعارف کرایا۔

بورس گودونوو (1598-1605ء)

بورس آئیون دی ٹیریبل کا باڈی گارڈ تھا۔ 1598 میں آئیون کے بیٹے کی موت کے بعد وہ تخت پر قابض ہو گیا۔ اس نے یورپی ممالک سے تعلقات مستحکم کیے اور روسی نوجوانوں کو یورپ میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی۔ اس نے اپنی سلطنت میں قابل اساتذہ منگوائے۔ بورس نے بحر بالٹک (Baltic Sea) تک پہنچنے کیلئے کئی ٹھوس اقدامات کئے۔ اگرچہ اس کی شہنشاہیت کا زمانہ 7سال تک رہا۔ اس کی موت کے بعد روس کے مصائب کا زمانہ شروع ہوا جن میں قحط اور خانہ جنگی کے علاوہ پولینڈ اور سویڈن کی طرف سے روس کے معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مائیکل 1 (1613-1645ء)

مائیکل 1 کی شہنشاہیت سے رومانوو زار شاہی کا آغاز ہوا۔ یہ خاندانی اقتدار 1613 ء سے 1917ء تک قائم رہا۔ اس کا آخری حکمران نکولس زار IIتھا۔ مائیکل 1نے بڑی جدوجہد اور محنت کے بعد رومانوو شہنشاہیت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔ مائیکل کے 10 بچے تھے لیکن صرف 4 بچے بلوغت کی عمر کو پہنچے۔ مائیکل نے سویڈن اور پولینڈ کے ساتھ روس کے تعلقات مضبوط کئے۔

پیٹر دی گریٹ (1682-1725ء)

زار شاہی کا سب سے مشہور شہنشاہ پیٹر دی گریٹ تھا، وہ مائیکل 1 کا پوتا تھا۔ پیٹر دی گریٹ نے روس کو مغربی طرز پر ڈھالنے کی بے انتہا کوششیں کیں۔ اس نے روشن خیالی کے اصولوں کو بھی روس میں متعارف کرایا۔ اس سے پہلے روس کو ایک پس ماندہ ملک خیال کیا جاتا تھا۔ پیٹر نے روسی فوج اور افسر شاہی کو نئے سرے سے منظم کیا۔ اس نے تمام عملے کو حکم دیا کہ وہ داڑھیاں نہ رکھیں اور مغربی لباس پہنیں۔ 6 فٹ8 انچ لمبا پیٹر دی گریٹ بڑی دبنگ شخصیت کا مالک تھا۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے پولتاوہ کی لڑائی میں سویڈن کی فوج کو شکست دی۔ یہ لڑائی 1709 ء میں لڑی گئی ۔ اس فتح کے بعد پیٹر دی گریٹ نے یوکرائن کے وسیع علاقے پر بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔

الزبتھ آف رشیا (1741-1762ء)

پیٹر دی گریٹ کی بیٹی الزبتھ آف رشیا نے ایک پرامن انقلاب کے ذریعے 1741 ء میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس کا اقتدار اس لحاظ سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں اپنے کسی ماتحت کو پھانسی کی سزا نہیں دی حالانکہ اس کا دور پرامن نہیں تھا۔الزبتھ کے 20سالہ دور میں روس2بڑی جنگوں میں الجھا رہا۔ الزبتھ نے اپنے دور میں ماسکو یونیورسٹی بنائی۔ اپنی فضول خرچیوں کے باوجود الزبتھ کا شمار مقبول ترین زار حکمرانوں میں ہوتا ہے۔

کیتھرائن دی گریٹ (1762-1796ء )

کیتھرائن سے پہلے اس کا شوہر پیٹر IIIچھ ماہ تک تخت نشین رہااس کی پالیسیاں پروشیا کے حق میں تھیں یہی سبب تھا کہ اسے قتل کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیتھرائن خود پروشیا کی شہزادی تھی جس کی شادی رومانو خاندان میں ہوئی۔ کیتھرائن کے دور میں روس کی سرحدوں میں توسیع ہوئی۔ اس نے کریمیا کو روس میں شامل کر لیا اور پولینڈ کو تقسیم کر دیا اس کے علاوہ کالے سمندر (Black Sea) کے ساتھ جتنے علاقے تھے ان کا الحاق بھی روس کے ساتھ کر دیا۔ پیٹر دی گریٹ نے روس کو مغربی طرز پر ڈھالنے کی جو کوششیں شروع کر رکھی تھیں کیتھرائن نے اسے جاری رکھا۔

الیگزینڈر 1(1801-1825ء)

الیگزینڈر 1کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کی شہنشائیت کا زمانہ وہ تھا جب نپولین اپنے عروج پر تھا اور یورپ کے خارجی معاملات نپولین کے فوجی حملوں کی وجہ سے تبدیل ہو رہے تھے۔ کافی عرصے تک اس نے فیصلہ سازی کے حوالے سے بہت کمزوری دکھائی اور پھر فرانس کیخلاف ردعمل کا مظاہرہ کیا۔سب کچھ تبدیل اس وقت ہوا جب 1812 ء میں نپولین کا روس پر حملہ ناکام ہو گیا۔ الیگزینڈر نے آسٹریا اور پروشیا کے ساتھ مل کر مقدس اتحاد (Holy Alliance) بنایا جس کا مقصد بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور سکیولرازم کو روکنا تھا۔ اس نے اپنے ملک میں کی گئی چند اصلاحات بھی واپس لے لیں۔اس نے روسی سکولوں سے غیر ملکی اساتذہ کو ہٹا دیا اور نصاب کو مذہبی بنیادوں پر تیار کرنے کا حکم دیا۔ اسے ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ کوئی اسے زہر نہ دیدے یا اسے اغواء نہ کر لیا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتا تھا۔ 1825ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔

کولس 1(1825-1855ء)

اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ 1917ء کے روسی انقلاب کی جڑیں نکولس 1کے دور میں ملتی ہیں۔ نکولس 1ایک جابر اور مطلق العنان حکمران تھا۔ اس نے فوج کو سب پر مقدم جانا اور اختلاف کرنے والوں کو بری طرح سے کچل دیااس کے دور میں روسی معیشت زوال کا شکار ہو گئی۔ اس کی علاوہ ریل کی پٹڑیاں صرف 600میل تک رہ گئیں جبکہ امریکہ میں یہ پٹڑیاں 10ہزار میل تک تھیں وہ اصلاحات پر عملدرآمد کے بھی خلاف تھا۔ نکولس کا 1855ء میں انتقال ہوا۔

 (1855-1881 ) الیگزینڈر

مغرب میں اس حقیقت سے کم لوگ ہی واقف ہیں کہ روس میں غلاموں کو اس وقت آزادی ملی جب امریکہ میں ابراہام لنکن نے امریکہ میں غلاموں کو آزاد کرانے میں کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے الیگزینڈر کو   آزادکرانے والا‘‘ (Alexender the liberator) بھی کہا جاتا ہے۔الیگزینڈر نے لبرل پالیسیوں کو فروغ دیا۔ 1863 ء میں اس نے پولینڈ میں بپا ہونے والی شورش کے جواب میں پولینڈ کا الحاق روس سے کر لیا۔ 1881ء میں اسے سینٹ پیٹرزبرگ میں قتل کر دیا گیا۔

نکولس (1894-1917ء)

روس کے آخری زار نکولس IIنے 13برس کی عمر میں اپنے دادا کو قتل ہوتے دیکھا تھا۔ اس کے زمانے میں روسی عوام نے بڑی تباہ کن صورتحال دیکھی۔ ایک تو حکومتی معاملات میں روسی   راہب‘‘ راسپوٹین کی مسلسل مداخلت اور پھر 1905 میں جاپان کے ساتھ جنگ میں روس کی شکست نے عوام میں سخت بے چینی پیدا کر دی۔ 1917ء میں روس میں بالشویک انقلاب نے ساری صورتحال ہی بدل دی۔ لینن اور ٹرائسکی کی قیادت میں کمیونسٹوں نے زار شاہی کا خاتمہ کر دیا۔ 1918ء میں نکولس زار II اور اس کے خاندان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

تحریر: عبدالحفیظ ظفر