تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاک آرمی کی چولستان کےدورافتادہ علاقوں میں مفت طبی سہولتیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈرنےہدایت کی کہ زیادہ ترمریضوں کوطبی سہولتیں دی جائیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- منصوبےکوعملی جامہ پہنانے کیلئے پاک آرمی کی خصوصی ٹیمیں تشکیل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ضلعی انتظامیہ کےساتھ طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئےسرگرم ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- 2021 میں چنن پیر،کھتری بنگلہ،دین گڑھ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کاانعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- چاہ ناگراں،چاہ ملکانہ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاجاچکاہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کالاپہاڑ،احمدپورایسٹ، منچن آباد اور چشتیاں میں فری میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- 12 ہزارافراد کوفری طبی سہولیات مہیا کی جا چکی ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- تحصیل اسپتال فورٹ عباس میں فری میڈیکل کیمپ 12سے 17 اکتوبرتک جاری ہے
  • بریکنگ :- 15 اکتوبر 2021کوکورکمانڈر بہاولپورنےآئی کیمپ کا دورہ کیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈربہاولپورنےکیمپوں میں دی گئی سہولتوں کاجائزہ لیا،آئی ایس پی آر

میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسے کالے قانون کے خاتمے تک صحافیوں کیساتھ ہیں: اپوزیشن

Published On 13 September,2021 05:51 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسے کالے قانون کے خاتمے تک صحافیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، میڈیا سے آزادی کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔

میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کے احتجاج میں شرکت کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ ابھی ہم نے پارلیمان میں بھرپور احتجاج کیا ہے، یقین دلاتے ہیں کہ ہم صحافیوں کیساتھ ہیں، کالے قانون کو ختم کرنے تک صحافیوں کیساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہم آپ کومایوس نہیں کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگرکالا قانون پاس ہوا توعدالت سے لیکر سڑکوں تک ساتھ دیں گے، کٹھ پتلی کولگ پتا جائے گا، ہم کسی کٹھ پتلی کے کالے قانون کو پاس نہیں ہونے دیں گے۔ شہبازشریف نے ہم سب کو اکٹھا کیا، اظہار ہمدردی کے لیے آئے ہیں، میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ہم سب ایک پیج پرہیں۔

صحافیوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیرجمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جہاں بادشاہت ہوتی ہے وہاں آزادصحافت نہیں ہوتی، اسمبلی میں آئین سے متصادم بہت سے قوانین آ رہے ہیں، صحافیوں کےحقوق کی جنگ میں ساتھ کھڑےہیں۔

رکن قومی اسمبلی اسعد محمود کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر صحافیوں کیساتھ ہے، میڈیا نہیں اسلامی جمہوریت کیخلاف قانون سازی ہو رہی ہے، ہماری سیاست، پارلیمان اور میڈیا بھی یرغمال ہے، اپوزیشن جماعتیں آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے متحد ہیں۔ ملکی تاریخ میں ایسی آمرانہ حکومت نہیں دیکھی۔