تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی ہدایت پریوٹیلیٹی اسٹورزپرآٹاسستاکردیاگیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:آٹےکی قیمتوں میں کمی کانوٹیفکیشن جاری
  • بریکنگ :- یوٹیلیٹی اسٹورزپر 20 کلوآٹےکاتھیلا 180 روپےسستا،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- اسلام آباد:10 کلوآٹےکےتھیلےکی قیمت میں 90روپےکمی
  • بریکنگ :- 10کلوآٹےکاتھیلا490سےکم کرکے 400روپےکاکردیاگیا،نوٹیفکیشن

دیوار برلن کیوں بنی؟ تعمیر کے 28 سال بعد اسے منہدم کیا گیا

Published On 10 May,2022 09:38 am

لاہور: (خاور نیازی) تاریخ کی کتابوں میں جن مشہور دیواروں کا ذکر ملتا ہے ان میں ’’دیوار چین‘‘، ’’دیوار گریہ‘‘، ’’دیوار براق‘‘ اور ’’دیوار برلن‘‘ سر فہرست ہیں۔ ’’دیوار گریہ‘‘ اور ’’دیوار براق‘‘ بالترتیب یہودیوں اور مسلمانوں کے نزدیک مقامات مقدسہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ دیوار چین دوسو سال قبل مسیح میں اس وقت کے چینی بادشاہ نے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رہنے کیلئے فصیل کے طور پر تعمیر کرائی تھی۔ اس کی لمبائی لگ بھگ بیس ہزار کلو میٹر بتائی جاتی ہے۔

  دیوار برلن‘‘ اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ ایک طرف تو یہ سرد جنگ کے طویل دور کی نشانی کے طور پر 28سال قائم رہی، دوسری طرف یہ راتوں رات مشرقی اور مغربی جرمنی کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا باعث بھی بنی۔ برلن کی اس تقسیم کو سمجھنے سے پہلے ہمیں برلن کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنا ہو گی۔

برلن تاریخ کے آئینے میں: 13ویں صدی سے تاریخ کا حصہ بننے والا شہر برلن 1701ء سے سلطنت پرشیا، 1871ء سے1918ء تک جرمن سلطنت، 1919ء سے 1932ء تک ویمار جمہوریہ اور 1933ء سے1945ء تک نازی جرمن کا دارالحکومت رہا۔پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 1920ء میں برلن کے گرد و نواح کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں کو یکجا کر کے ایک بڑے شہر کی بنیاد رکھی گئی جسے ویمار جمہوریہ قرار دیا گیا۔ اس وقت برلن کی آبادی 40 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی۔ ویمار جمہوریہ 1932ء تک قائم رہی۔1933ء میں جب جرمنی میں نازی جماعت برسراقتدار آئی اور ایڈولف ہٹلر یہاں کے حکمران بنے۔ اس وقت تک برلن میں یہودیوں کی تعداد 17لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ نازی پارٹی کے برسراقتدار آتے ہی یہودیوں سمیت تمام غیر آریائی باشندوں کو کمتر سمجھتے ہوئے یہاں سے کوچ کر جانے کا تاثر دیا جانے لگا۔ نازی پارٹی نے رفتہ رفتہ غیر آریائی باشندوں پر ظلم و تشدد کرنا شروع کردیا حتیٰ کہ 1938ء میں ’’کرسٹل ناخٹ‘‘ کے بعد یہودیوں کوزبردستی حراستی کیمپوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا اور مبینہ طور پربڑی تعداد میں یہودیوں کا قتل عام کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم میں بھی برلن فضائی حملوں کی زد میں رہا ۔ جس کے نتیجے میں مشرقی برلن سے ہزاروں لوگوں نے نقل مکانی کر کے مغربی برلن کا رخ کیا۔ 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یلٹا اور پوٹسڈم میں امن کانفرنس میں اتحادیوں نے شکست خوردہ جرمنی کے حصے بخرے کرنا شروع کئے۔ امریکہ اور سوویت یونین کی سربراہی میں جرمن کو بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے تحت ملک کا مشرقی حصہ سوویت یونین کے حصے میں آیا جبکہ مغربی حصہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حصے میں آیا۔ اسی تقسیم کے تحت برلن شہر بھی چار حصوں میں تقسیم ہو گیا اور کئی دہائیوں تک سرد جنگ کا مرکز بنا رہا۔ سرد جنگ کے اس دور میں مشرقی برلن سے مغربی برلن نقل مکانی کا سلسلہ طول پکڑتا گیا جو بنیادی طور پر ’’دیوار برلن‘‘ کی وجہ بنا۔

دیوار برلن کی تعمیر: تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کی جب 1950ء سے 1960ء کی دہائی میں جرمنی دو حصوں میں تقسیم تھا تو اگست کی ایک صبح شہریوں پر یہ خبر بجلی بن کر گری جب انہوں نے دیکھا کہ سوویت کے زیر کنٹرول مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کے درمیان خاردار باڑ لگا کر عملاً انہیں ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا ہے۔ 13اگست 1961ء کو مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ حکومت نے اگرچہ یہ کہہ کر اس دیوار کی تعمیر کا آغاز کیا کہ ان کا مقصد مغربی فاشسٹوں کو مشرقی جرمنی میں داخل ہونے اور سوشلسٹ ریاست کو کمزور کرنے سے روکنا تھا جبکہ درحقیقت اس دیوار کی تعمیر کا مقصد مشرقی جرمنی سے اس کثیر نقل مکانی کو روکنا تھا جو کمیونسٹ حکومت کی پالیسیوں سے تنگ آ کر مغربی جرمنی کا رخ کر رہی تھی۔

اس دیوار کی کل لمبائی 155کلو میٹر تھی لیکن یہ دیوار مرحلہ وار آگے بڑھتی رہی۔ پہلا مرحلہ 1961ء میں خاردار تاروں سے شروع ہوتا ہے۔ دوسرا مرحلہ 1962ء سے لیکر 1965ء تک کا ہے جب ان خاردار تاروں کو مضبوط اور محفوظ بنانا تھا۔ اس کا تیسرا مرحلہ 1965ء سے شروع ہوتا ہے جب باقاعدہ طور پر ایک پختہ دیوار کا آغاز کیا گیا جو 1975ء تک جاری رہا۔ چوتھا اور آخری مرحلہ 1975ء سے شروع ہو کر 1989ء تک جاری رہا۔ اس آخری مرحلے کے دوران کنکریٹ سے بنی ساڑھے تین میٹر اونچی یہ دیوار باقاعدہ طور پر بارڈر وال میں بدل دی گئی۔ اس دیوار کے ذریعے غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کیلئے مشرقی جرمنی کی طرف سے بارہ ہزار کے لگ بھگ محافظ تعینات تھے جنہیں یہ ہدایات جاری کر رکھی تھیں کہ غیر قانونی دیوار پھلانگنے والے کو فی الفور گولی مار دی جائے۔

دیوار برلن کا انہدام: مغربی اور مشرقی جرمنی کے لوگوں کیلئے 9 نومبر 1989ء کا دن ایک خوشگوار دن تھا جب انہیں یہ خوشخبری سننے کو ملی کہ آج کے بعد مشرقی جرمنی کے لوگ مغربی جرمنی اور مغربی جرمنی کے لوگ مشرقی جرمنی بلا تفریق آ جا سکیں گے۔یہی وہ تاریخی لمحات تھے جب ہزاروں لوگوں نے اس دیوار کے دونوں پار پہنچ کر بے تابی سے دیوانہ وار نفرت کی اس دیوار کو پھلانگنا شروع کر دیا۔ اگلے چند ہفتوں کے اندر اندر 28سالہ نفرت کی اس دیوار کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا۔ تاریخ کی علامت کے طور پر لگ بھگ تین کلومیٹر کے ٹکڑے کو محفوظ کر لیاگیا تھا۔

خاور نیازی لاہور میں مقیم ایک سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں