تازہ ترین
  • بریکنگ :- پشاور:سائبرکرائم سرکل ایبٹ آبادکی کارروائی
  • بریکنگ :- پشاور:میٹرک امتحانات کےپیپرلیک کرنیوالے 11 ملزمان گرفتار
  • بریکنگ :- ملزمان نےامتحانی پرچوں کےاسکرین شارٹس حاصل کیے،ایف آئی اے
  • بریکنگ :- ملزمان نےامتحانی پرچوں کےاسکرین شاٹس حاصل کیے،ایف آئی اے
  • بریکنگ :- ملزمان نےواٹس ایپ کےذریعےپیپرزکولیک کیا،ایف آئی اے
  • بریکنگ :- ملزمان میں سرکاری،نجی اسکولوں کےاساتذہ اوردیگرشامل،ترجمان

حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم بھی فوری انتخابات کی حامی

Published On 16 May,2022 05:06 pm

اسلام آباد: (یاسر ملک) مسلم لیگ ن کی حکومت میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان بھی ملک میں فوری طور پر انتخابات کی حامی نکلی۔

وزیراعظم شہباز شریف سے متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے کنونیئر رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو اور تفصیلی مشاورت کی گئی۔

ملاقات میں وزیراعظم کو عوامی فلاحی منصوبوں کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرنے اور کراچی کی عوام کیلئے ترقیاتی منصوبوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

شہباز شریف نے حکومتی اصلاحات کے نفاذ میں اتحادی جماعتوں کے تعاون کا خیر مقدم کیا اور مستقبل میں قومی مفاد کے فیصلوں میں اتحادیوں کے تعاون کو کلیدی قرار دیا۔

دوسری طرف ایم کیو ایم کے کنونیئر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر خالد مقبول اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔

حکومتی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان بھی ملک میں فوری طور پر انتخابات کی حامی نکل آئی۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ مشکل حالات میں ہمیں ریاست کو دیکھنا ہے، سیاست کی قربانی دینا ہوگی، ریاست کو بچانے کے لیے مشکل فیصلے لینے چاہئیں۔

ایم کیو ایم نے اپنی تجاویز وزیراعظم کے سامنے رکھ دیں۔ اس دوران ایم کیو ایم رہنماؤں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کر دی۔

ایم کیو ایم رہنماؤں نے اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق حکومت امیر اور غریب میں تفریق رکھے، موٹر سائیکل والوں کے لیے قیمت الگ رکھے، بڑی گاڑیاں رکھنے والوں کے لیے پٹرول کی قیمت الگ ہونی چاہیے، ان تمام مسائل کا حل عام انتخابات ہیں، فرش مینڈیٹ لیا جائے، اب اگر دیر کی تو بدنصیبی ہو گی، انتخابی اصلاحات ایک ہفتے میں بھی ہو سکتی ہیں، مشکل حالات میں ریاست کو دیکھنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان کی حکومت میں اپوزیشن میں بیٹھنے کو تیار ہوگئے تھے 20 منحرف ارکان کو سندھ ہاوس میں دیکھا تو فیصلہ لینا پڑا۔ تسلیم کیا کہ ہمارے معاہدوں سب سے زیادہ عملدرآمد تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ہوایہ بھی واضح کیا کہ پی ڈی ایم کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو اپوزیشن میں بیٹھنے کا آپشن کھلا ہے۔

ایم کیو ایم نے آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع سے متعلق قانون سازی کی بھی تجویز دے دی۔

متحدہ نے نسرین جلیل کی بطور گورنر سندھ تقرری کا بھی دفاع کیا، وزیراعظم نے ایم کیو ایم کی تجویز پر اتحادیوں سے کل مشاورت کا فیصلہ کرلیا۔