قبل از وقت انتخابات ممکن؟

Published On 18 August,2022 09:28 am

لاہور: (سلمان غنی) ایک طرف جہاں حکومت اور اس کے اتحادی اپنی حکومتی مدت پوری کرنے کے حوالے سے پرعزم ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف اور اسکی قیادت ملک میں نئے انتخابات اور فوری انتخابات کرانے کے حوالے سے بے چین ہے۔ اپنے ان مقاصد کے حصول کیلئے انہوں نے ملک بھر میں ریلیوں کے انعقاد کا ایک پروگرام بنا رکھا ہے جس کے ذریعے وہ حکومت اور متعلقہ اداروں پر اپنا سیاسی دباؤ بڑھائے گی۔ ملک میں جاری کشمکش اور تناؤ کی صورتحال میں دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا پی ٹی آئی سیاسی دبائو کے ذریعے قبل از وقت انتخابات کا ہدف حاصل کر پائے گی؟۔ جہاں تک تحریک انصاف کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے شروع کی جانے والی مہم کا سوال ہے تو یقینا یہ کسی بھی جماعت کا حق ہے کہ وہ کسی بھی ایشو پر اپنی حکمت عملی طے کرے اور اس پر کار بند ہو، لہٰذا اگر تحریک انصاف اور اس کی لیڈر شپ یہ سمجھتی ہے کہ قبل از وقت انتخابات خود اس کی سیاست اور بقاء کیلئے ناگزیر ہیں تو اس حوالے سے ترپ کا پتہ تو اس کے ہاتھ میں ہے کہ وہ پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیاں تحلیل کر دے تو اس بڑے بحران کا حل سوائے نئے انتخابات کی جانب بڑھنے کے کچھ اور نہ ہوگا۔ فی الحال اس پر حتمی رائے نہیں دی جا سکتی البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کس طرح اپنی دو صوبوں کی حکومتوں کو نئے انتخابات کیلئے قربان کر دے اور پھر جبکہ اسے آنے والے نتائج کے بارے میں یقین نہ ہو کہ وہ کیا ہوں گے۔

اس حکمت عملی کو ضرور سراہا جانا چاہئے کہ پی ٹی آئی قبل از وقت انتخابات کیلئے چلائی جانے والی مہم کو دراصل انتخابی تیاریوں کیلئے بروئے کار لا رہی ہے جس میں وہ عوام سے بھی رابطہ رکھ پائے گی اور اپنی تنظیموں اور عہدے داران کو بھی متحرک رکھے گی۔ واقفان حال تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں اپنی حمایت یافتہ حکومت کے قیام کے بعد سے اب قبل از وقت انتخابات کا بخار کسی حد تک اتر چکا ہے اور محسوس یہ ہو رہا ہے کہ اسمبلیوں کی مدت کی تکمیل پر غیر اعلانیہ سمجھوتہ طے پا چکا ہے ۔

جہاں تک حکومتی اتحاد اور انتخابات کے حوالے سے اس کی حکمت عملی کا سوال ہے تو اس حکومت کا مؤقف تو شروع میں یہی تھا کہ معاشی حوالے سے اقدامات اور انتخابی اصلاحات کے بعد وہ عوام سے رجوع کریں گے لیکن حکومت میں آنے کے بعد بعض بڑے فیصلوں کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ان فیصلوں کے نتیجہ میں ان کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے۔ لہٰذا مشکل فیصلوں کے بعد فوری انتخابات میں جانا ان کیلئے گھاٹے کا سودا ہے۔ اس لئے حکومتی اتحادیوں نے اپنی مدت کی تکمیل پر اتفاق رائے کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور فیصلہ یہ تھا کہ معاشی اقدامات کے اثرات مسائل زدہ عوام تک پہنچیں گے تو ان کا سیاسی کیس بن پائے گا اور وہ انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں ہوں گے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اپنے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب نئی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے کہ خود حکمران اتحاد میں بھی اختلافات سر اٹھانے لگے ہیں۔ خصوصاً عالمی مارکیٹ میں پیٹر ولیم کی قیمتوں میں کمی کے بعد اس امر کا امکان تھا کہ پیٹر ولیم کی قیمتیں کم ہوں گی اور اس حوالے سے امکانات بھی تھے لیکن رات کے اندھیرے میں پیٹر ولیم کی قیمتوں میں تقریباً پونے سات روپے اضافے نے ایک نئی صورتحال پیدا کر دی۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری ، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں نے بھی مذکورہ اضافہ کی مخالفت کر دی ہے جو خود وزیراعظم شہبازشریف کیلئے چیلنج بن گئی ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ اس اضافہ کی سمری پر دستخط وزیراعظم شہبازشریف کے ہیں میرے نہیں۔ اس طرح سے انہوں نے گیند وزیراعظم شہبازشریف کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔

حکومتوں کو تو سیاسی جماعتوں کی طاقت قرار دیا جاتا ہے لیکن پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ حکومت خود حکمران سیاسی جماعتوں کی کمزوری بن گئی ہے۔ خصوصاً مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت اس سے متاثر ہو رہی ہے اور وزیراعظم شہبازشریف جس کے حوالے سے عام تاثر تھا کہ وہ ناممکن کو ممکن بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں ان کی بے بسی بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ ایسی کیفیت میں کیا حکمران اتحاد انتخابات کا رخ کرے گا، اسے خارج از امکان ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ملکی حالات پر گہری نظر رکھنے والے کہہ رہے ہیں کہ ملک کے حوالے سے اہم فیصلوں کا مہینہ ستمبر ہے جس میں بڑے فیصلوں کے نتیجے میں ملک کا جمہوری اور معاشی مستقبل واضح ہوگا۔ ان کے خیال میں اس وقت ملک کا بڑا مسئلہ معاشی ہے۔اگرموجودہ حالات میں حکومت اور ادارے معاشی صورتحال سے صرف نظر کرتے ہوئے انتخابی عمل کی طرف بڑھتے ہیں تو اس سے ملک کا نقصان ہوگا ۔ معاشی صورتحال کے حوالے سے سرگرم حلقے بھی یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ملکی معیشت کے حوالے سے اس حکومت کا رواں برس کے اختتام تک اپنا وجود برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ ملکی معیشت بارے اہم فیصلوں کیلئے یہ ناگزیر ہے۔