راولپنڈی: (دنیا نیوز) ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، امدادی سرگرمیوں کے دوران 2 جوان شہید، 2 زخمی ہوئے۔
وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور چیئرمین این ڈی ایم اے کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ میڈیکل کیمپوں میں 20 ہزار سے زائد لوگوں کو سہولت فراہم کی گئی، سیلاب متاثرین میں 225 ٹن راشن تقسیم کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پلوں اورشاہراہوں کی بحالی کا کام مکمل کیا گیا، خیبرپختونخوا کے تمام روڈ کلیئرکیے جا چکے ہیں، کرتارپور میں کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مشکلات کا شکار خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، گلگت بلتستان میں بھی ایئر ریلیف آپریشن جاری ہے، شاہراہ قراقرم کھول دی گئی ہے، غذرکی شاہراہوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاک فوج کا ان حالات میں بھی خارجیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، تاکہ وہ کسی صورت حال کا فائدہ نہ اٹھا سکیں، پاک فوج نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں 29 میڈیکل کیمپس قائم کیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مشکل کی گھڑی پاک فوج کے افسران اور جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، کوئی بھی باطل قوت عوام اور افواج پاکستان کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ فوج اور اس کے تمام افسران، جوان مشکل گھڑی میں عوام کیساتھ ہیں، کوئی باطل قوت کسی قسم کی دراڑ نہیں ڈال سکتی۔
انہوں نے کہا کہ بہاولپور اور بہاولنگر میں 4 یونٹس کو سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے، خیبرپختونخوا میں بھی یونٹس اور میڈیکل بٹالین موجود ہیں، وزیراعظم اورصوبائی حکومتیں ہنگامی صورتحال پرمتحرک ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ خارجی اور دہشت گردوں کےخلاف آپریشن بھی متواتر جاری ہیں، حالت جنگ ہو یا امن، پاک فوج عوام کے شانہ بشانہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 28 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، گوجرانوالہ میں 6 انفنٹری کی یونٹس 2 انجینئرنگ یونٹس تعنیات ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ورکنگ باؤنڈری میں کسی بھی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا، سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر 6 ہزار لوگوں کو نکالا جاچکا ہے۔
پیشگی وارننگ سسٹم سے لوگوں کا بروقت انخلا ممکن ہوا: عطا تارڑ
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ این ڈی ایم اے متاثرہ علاقوں میں خیمے اور دیگر ضروری سامان فراہم کر رہا ہے جبکہ دریائے راوی کے قریب جسڑ اور شاہدرہ کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق تمام حفاظتی اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں اور صوبائی حکومت این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم مسلسل اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے موسم کی تازہ ترین معلومات بھی حاصل کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیشگی وارننگ سسٹم نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت لوگوں کا بروقت انخلاء ممکن ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دریاؤں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور یہ ایک مشترکہ قومی ردعمل ہے، جس میں پاک فوج سمیت تمام متعلقہ ادارے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ اگلے چند دنوں میں متاثرہ افراد کے نقصانات کا جائزہ لے کر ان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔