ابوبکر البغدادی ساتھیوں سمیت آپریشن میں ہلاک، امریکی صدر نے تصدیق کردی

Last Updated On 28 October,2019 03:52 pm

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ابوبکر البغدادی اور اس کے کئی ساتھی آپریشن میں مارے گئے ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد مارا گیا لیکن اس آپریشن میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے دہشتگرد نے معصوم لوگوں کو مارا، داعش کے باقی کارندوں کا بھی یہی انجام ہوگا۔ روس، ترکی، شام اور عراق کا سپورٹ کرنے پر شکر گزار ہوں۔

امریکا کی جانب سے ابوبکر البغدادی کے سر کی قیمت دس ملین ڈالر مقرر کی گئی تھی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اس کے انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے ممکن ہوئی جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے ایران کو اس کارروائی کے بارے میں پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ امریکی فورسز کا یہ آپریشن شام کے علاقے اِدلِب میں کیا گیا۔ اس حملے میں البغدادی سمیت 9 افراد مارے گئے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ابوبکر بغدادی کی ہلاکت کے حوالے سے متعدد بار دعوے ہوتے رہے لیکن وہ بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ البغدادی نے پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ اس کی پیدائش 1971ء میں میں ہوئی۔ اس نے تکریت یونيورسٹی میں معلم کی حیثیت سے پڑھایا لیکن عراق پر امریکی حملے کے بعد اس نے 2003ء شدت پسندی کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔

داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے سن دو ہزار چودہ میں خود کو خلیفہ قرار دیتے ہوئے ایک عالمی خلافت کے قیام کے لیے کوششیں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے بتایا ابوبکر البغدادی نے بھاگ کر ایک سرنگ میں پناہ لی لیکن وہ بند تھی، انہوں نے سرنگ میں خود کش دھماکا کیا جس کے نتیجے وہ اور ان کے تین جوان بچے مارے گئے۔ انہوں نے کہا البغدادی اپنے آخری لمحات میں بہت زیادہ خوفزدہ تھے۔ امریکی صدر نے دعویٰ ہے کہ البغدادی رو اور چیخ رہے تھے، وہ ایک بزدل، مفرور شخص کی طرح مارے گئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کیلئے ہونے والا آپریشن دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کوئی فلم دیکھ رہے ہوں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس ویڈیو کو عام لوگوں کے لیے جاری کر دیا جائے تاکہ البغدادی کے پیرکاروں کی حوصلہ شکنی ہو۔