تازہ ترین
  • بریکنگ :- شجاع آباد:بیگاں والی میں استادکاسبق یادنہ کرنےپرطالبعلم پرتشدد،پولیس
  • بریکنگ :- شجاع آباد:تشدد کےباعث 7سالہ علی حمزہ زخمی،اسپتال منتقل،پولیس
  • بریکنگ :- ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں تشددثابت،ملزم کی گرفتاری کےلیےچھاپے

ایران سعودی عرب کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان، عراق متحرک

Last Updated On 05 October,2019 07:00 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کرنے لگا، اسلام آباد کیساتھ عراق سمیت چند ممالک ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی میں کمی لانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونیوالی خبر کے مطابق سعودی عرب اور ایران کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کرنے کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے، مشرق وسطیٰ کے دونوں ممالک میں کافی عرصے سے تعلقات کشیدہ ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سعودی آئل کمپنی کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ دونوں ممالک کے مابین کسی بھی وقت جنگ نہ شروع ہو جائے تاہم اس دوران سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا ایک انٹرویو جس میں انہوں نے کہا کہ میں ایران کیساتھ لڑائی نہیں چاہتا کیونکہ جنگ عالمی معیشت برباد کر دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایران سعودی عرب معاملات کو سلجھائے: ڈونلڈ ٹرمپ

وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سعودی عرب گئے تھے، امریکا میں عمران خان نے انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ثالثی کی درخواست کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نیو یارک میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات

ایک پاکستانی اہلکار نے شناخت مخفی رکھتے ہوئے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو بتایا کہ جنگ نہیں چاہتے۔ محمد بن سلمان نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ثالثی کرنے کی درخواست کی تھی۔

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات بھی کی تھی جبکہ اجلاس کے بعد شاہ محمود نے وطن واپسی سے قبل ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ’خصوصی‘ ملاقات کی تھی۔ پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب کے چند روز بعد عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے بھی سعودی ولی عہد سے ملاقات کی تھی۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی ذرائع کے مطابق بھی سعودی عرب نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے عراقی وزیر اعظم سے بھی کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ عبدالمہدی نے محمد بن سلمان اور صدر روحانی کو بغداد میں براہ راست ملاقات کی تجویز بھی دی تھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں تازہ ترین سفارتی تنازعہ کینیڈا کے ساتھ جاری ہے۔ سفارتی تنازعے کی وجہ کینیڈا کی جانب سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کے لیے کی گئی ٹویٹ بنی۔ سعودی عرب نے بیان کو ملکی داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط ختم کر دیے۔

تہران حکومت نے بھی کہا تھا کہ سعودی عرب نے مذاکرات کے لیے مختلف ذرائع سے ایران کو پیغامات بھجوائے ہیں۔ تاہم سعودی عرب نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے تیسرے فریق کے ذریعے صدر حسن روحانی کو پیغام بھیجا: ایران

خبر رساں ادارے کے مطابق پس پردہ سفارت کاری کی کوششوں کے باوجود عوامی سطح پر سعودی عرب اور ایران دونوں ہی نے ایک دوسرے کے خلاف سخت لب لہجہ اختیار کر رکھا ہے۔ محمد بن سلمان نے ولی عہد بننے کے بعد ہی سے ایران کو مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل کی جڑ قرار دیا تھا۔ 2017 میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کا اصل ہدف سعودی عرب ہے لیکن وہ سعودی سرزمین پر جنگ شروع ہونے کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ ایران کو میدان جنگ بنائیں گے۔

اب سعودی پالیسی میں بظاہر تبدیلی کے ضمن میں نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی سے گریز کیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب ملکی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے امریکا پر انحصار کیے ہوئے تھا۔ لیکن اس واقعے نے بھی سعودی حکام کو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا۔ ریاض کے خلیجی اتحادی بھی کشیدگی میں کمی لانے کیلئے سفارتی راستے اختیار کرنے کا کھل کر اظہار کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے لڑائی نہیں چاہتا، جنگ عالمی معیشت کو تباہ کر دیگی: محمد بن سلمان

دوسری جانب ایران براہ راست مذاکرات کے لیے بھی رضا مند ہے کیوں کہ تہران کی خواہش اور کوشش یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کے اتحادیوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔ یو این جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی روحانی نے خلیجی ممالک کو کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران آپ کا پڑوسی ہے۔ وقت پڑنے پر آپ اور ہم تنہا ہوں گے۔ ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں، امریکا نہیں۔