تازہ ترین
  • بریکنگ :- بیرون ممالک خواتین مردوں کےشانہ بشانہ کام کرتی ہیں،حسان خاور
  • بریکنگ :- پاکستان دنیامیں آبادی کےلحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے،حسان خاور
  • بریکنگ :- لاہور:خواتین کےبغیرکوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی،حسان خاور
  • بریکنگ :- دنیامیں9کھرب ڈالر سیاحتی شعبہ سے کمایاجاتاہے،حسان خاور
  • بریکنگ :- لاہور: ہمارے پاس مذہبی سیاحت کےبےپناہ مراکز ہیں،حسان خاور

بھارت نے جو حق پانچ اگست کو چھینا اسے ہمیں واپس لینا ہے: محبوبہ مفتی

Published On 14 October,2020 10:15 pm

سرینگر: (ویب ڈیسک) سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارت نے ہم سے ایک غیر جمہوری اور غیر قانونی فیصلے کے تحت جو کچھ پانچ اگست 2019ء کو چھینا ہے، اسے ہمیں واپس لینا ہے۔

رہائی کے بعد محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر اکاؤنٹ پر آڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک برس سے بھی زیادہ وقت کی قید کے بعد بالآخر انہیں رہائی مل گئی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ اس پوری مدت کے دوران پانچ اگست کا یوم سیاہ ہم پر حملہ آور رہا۔ مجھے یقین ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے تمام لوگ انہیں احساسات سے گزر رہیں ہوں گے۔ اس روز ہم سب کو جس انداز سے ذلیل و خوار کیا گیا ہے، اسے کوئی بھی بھلا نہیں سکتا۔

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ نئی دہلی کے دربار نے ہم سے ایک غیر جمہوری اور غیر قانونی فیصلے کے تحت جو کچھ پانچ اگست کو چھینا ہے، اسے ہمیں واپس لینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیری بھارت سے جان چھڑانے کیلئے چینی حکومت قبول کرنے کو تیار ہیں: فاروق عبد اللہ

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لیے ہی ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں، ہمیں اپنی جد و جہد جاری رکھنی ہوگی۔ میں متفق ہوں کہ یہ راستہ آسان نہیں ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم اسے حاصل کر لیں گے۔

محبوبہ مفتی کی گرفتاری کو ان کی بیٹی التجا مفتی نے عدالت میں چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے 29 ستمبر کو حکومت سے پوچھا تھا کہ آخر محترمہ مفتی کو کب تک حراست میں رکھا جائیگا۔ عدالت نے حکومت کو جواب دینے کے لیے 14 اکتوبر تک کا وقت دیا تھا لیکن حکومت نے انہیں 13 اکتوبر کی شام کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری طرف محبوبہ مفتی نے ہند نواز فاروق عبد اللہ اور عمر عبد اللہ سے ملاقات کی۔

ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ فاروق صاحب میرے گھر تشریف لائے یہ میرے لیے عزت کا مقام ہے، آپ کی آمد اور الفاظ سن کر مجھے مزید حوصلہ ملا، پر امید ہوں کہ دونوں مل کر چیزوں کو بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے سابق ہند نواز وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ کا کہنا تھا کہ کشمیری اب خود کو بھارت کا حصہ نہیں سمجھتے، احتجاج روکنے کے لیے گلی گلی بھارتی فوج تعینات ہے۔ کشمیری بھارت سے جان چھڑانے کیلئے چینی حکومت قبول کرنے کو تیار ہیں۔

مقبوضہ جموں کشمیر کے باسی کیا سوچتے ہیں عوام کی سوچ سابق وزیر اعلیٰ کی زبان سے دنیا تک پہنچ گئی، سابق بھارت نواز وزیراعلیٰ فاروق عبد اللہ کا کہنا ہے کہ کشمیری اب خود کو بھارت کا حصہ نہیں سمجھتے جس دن بھارتی فوج گلی کوچوں سے ہٹے گی لاکھوں کشمیری سڑکوں پر ہونگے۔

معروف بھارتی صحافی کرن تھاپر سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبد اللہ نے کہا کہ کشمیر اب بھارت سے جان چھڑانے کے لیے چین کی حکومت بھی قبول کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مودی سرکار لداخ کے بدھوں کو بھی ہندو بنانے پر کام کر رہی ہے

فاروق عبد اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب نہرو نے جناح کو متحدہ ہندوستان کے وزیر اعظم بننے کی پیشکش کی تو انہوں نے انکار کردیا تھا کیونکہ جناح کو پتہ تھا ہندو انہیں قبول نہیں کریں گے اور چند دن بعدانہیں نکال باہر کریں گے۔