تازہ ترین
  • بریکنگ :- سکردو:وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالدخورشیدکی پریس بریفنگ
  • بریکنگ :- آرٹیکل ون میں شامل ہوئےبغیرگلگت بلتستان بااختیارصوبہ بنےگا،خالدخورشید
  • بریکنگ :- جی بی کیلئےقومی اسمبلی میں چار،سینیٹ میں 8نشستیں مختص ہوں گی،وزیراعلیٰ
  • بریکنگ :- جی بی سےمنتخب قومی اسمبلی ممبروزیراعظم پاکستان بھی بن سکتاہے،خالدخورشید
  • بریکنگ :- عبوری آئینی صوبےکیلئےوفاق کی اپوزیشن جماعتوں سےتعاون کی امیدہے،وزیراعلیٰ
  • بریکنگ :- گلگت بلتستان میں لینڈریفارمزکمیشن بنایاگیاہے،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
  • بریکنگ :- لینڈمافیااورمحکمہ مال کےکرپٹ اہلکاروں کونشان عبرت بنائیں گے،خالدخورشید
  • بریکنگ :- 5 سال میں نیاگلگت بلتستان دےکرجائیں گے،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
  • بریکنگ :- 150 میگاواٹ بجلی کےمنصوبوں پرکام شروع کردیا،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
  • بریکنگ :- ہرضلع کےاسپتالوں میں آئی سی یوبنائیں گے،وزیراعلیٰ خالدخورشید
  • بریکنگ :- سکردو:2میڈیکل کالجزبھی قائم کیےجائیں گے،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان

عراق میں امریکی بیس پر تاریخ کے سب سے بڑے ایرانی حملے کی ویڈیو سامنے آ گئی

Published On 01 March,2021 11:46 pm

تہران: (دنیا نیوز) 13ماہ قبل امریکی بیس پر ایران کے میزائل حملے کی نئی ویڈیو منظر عام پر آگئی، مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فورسز کے کمانڈرجنرل مکنزی کہتے ہیں کہ حملے سے اندازہ ہوا، ایران کے میزائل کتنے خطرناک ہیں، امریکی بیس پر اس سے بڑا حملہ نہیں دیکھا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی بیس پر تاریخ کا سب سے بڑا میزائل حملہ کی حقیقت سامنے آ گئی، ایک سال قبل عراق میں امریکی افواج پر ہونے والے ایرانی حملے کی نئی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔

جنوری 2020ء میں جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ایران نے عراق کی عین الاسد بیس پر گیارہ میزائل داغے تھے، بیس پر موجود امریکی اہلکاروں کے مطابق میزائل ایک ہزار پاؤنڈ وزنی وار ہیڈ کے حامل تھے، حملے کے بعد شعلے فضا میں ستر فٹ تک بلند ہوئے۔

مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل فرینک مک کینزی کے مطابق ایرانی حملے کو وہ براہ راست سیٹلائٹ کی مدد سے دیکھ رہے تھے، حملے سے کچھ دیر پہلے اطلاع ملی تھی اس لیے ایک ہزار فوجیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

جنرل مک کینزی کے مطابق انخلاء نہ ہوتا تو ڈیڑھ سو تک امریکی اہلکار مارے جاسکتے تھے، جنرل مک کینزی نے حملے کو کسی بھی امریکی بیس پر تاریخ کا سب سے میزائل حملہ قرار دیا۔

انکا کہنا تھا کہ اگر کوئی امریکی سپاہی مرجاتا تو امریکا ایران کو جواب دیتا، حملے میں سو سے زیادہ فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئی تھیں، کئی سپاہی آج تک ٹھیک نہیں ہوپائے۔