تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوروناکانیا ویرینٹ اومی کرون 40ممالک میں پہنچ گیا،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- اومی کرون سےابھی تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- لوگ نئے ویرینٹ سے گھبرائیں نہیں،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- شہری پہلےسےثابت شدہ حفاظتی اقدامات پرعمل کریں،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- بچاؤکےلیےزیادہ سےزیادہ لوگوں کوویکسین لگائی جائے ،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- ویکسین کواپ گریڈکرنےسےمتعلق ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے،عالمی ادار صحت
  • بریکنگ :- نئے ویرینٹ کےخلاف بھی پہلےسےموجودویکسین کااستعمال جاری رکھاجائے،عالمی ادارہ صحت

کورونا کو دنیا استحکام کی بدولت شکست دے سکتی ہے: چین کی بھارت کو مدد کی پیشکش

Published On 30 April,2021 07:10 pm

بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین نے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کے بحران میں مبتلا بھارت کو مدد کی پیشکش ہے۔

بھارت میں چین کے سفیر سن ویڈانگ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ وزیراعظم نریندرا مودی کو پیغام میں ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

پیغام کے مطابق چینی صدر کا کہنا ہے کہ کورونا کو دنیا استحکام اور تعاون کی بدولت ہی شکست دے سکتی ہے۔ چین وبا سے لڑنے کے لیے انڈیا سےتعاون مستحکم کرنے کے لیے، سپورٹ اورمدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ مجھے یقین ہے کہبھارتی حکومت کی لیڈر شپ میں بھارتی عوام کورونا پر یقیناً قابو پا لے گی۔

شی جنگ پنگ کا کہنا تھا کہ انسانیت ایک کمیونٹی ہے جس کا مستقبل مشترکہ ہے، تمام ممالک مل کر اس وباء کو شکست دے سکتے ہیں۔ چینی حکومت بھارت کی تمام مدد کرنے کے لیے تیار ہے،

مزید برآں جاپان نے بھی کہا ہے کہ وہ انڈیا کو آکسیجن جنیریٹرز اور وینٹیلیٹر فراہم کرے گا۔

جاپان کے سفیر ساتوشی سوزوکی نے ٹویٹ کیا کہ  اس انتہائی مشکل وقت میں جاپان انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔

دو روز قبل جاپانی وزیر اعظم اور نریندر مودی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا اور اس گفتگو کے بعد ہی جاپان نے اس مدد کا اعلان کیا ہے۔

 

دوسری طرف بھارت میں ایک روزریکارڈ کیسز سامنے آئے، 3 لاکھ 86 ہزار 925 مزید افراد متاثر ہوئے، وبا کے بعد کسی بھی ملک کے یہ اب تک سب سے زیادہ یومیہ کیسز ہیں، شمشان گھاٹ پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا منظر زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔


بھارت میں کورونا کے وار مزید تیز ہو گئے، مزید 3 ہزار 501 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ مہلک وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 8 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ ایک روز میں مزید 3 لاکھ 86 ہزار 925 افراد متاثر ہوئے۔ وبا کے بعد کسی بھی ملک کے یہ اب تک سب سے زیادہ یومیہ کیسز ہیں، گذشتہ کئی روز سے بھارت میں روزانہ ریکارڈ تعداد میں لوگ وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ہر آنے والے دن اس تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔

دلی میں شمشان گھاٹ پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے ایسا منظر زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ قبرستانوں میں بھی مسلسل کام چل رہا ہے، لوگ اپنے پیاروں کو دفنانے آ رہے ہیں۔

دارالحکومت دلی میں 24 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے اور 395 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دلی کے ہیلتھ منسٹر نے کہا ہے کہ ان کے پاس لوگوں کو لگانے کے لیے ویکسین موجود نہیں ہے۔

بھارت میں کوویڈ 19 کے مثبت آنے کی شرح کم از کم 18 فیصد ہو چکی ہے، معروف بھارتی صحافی برکھا دت کے والد کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر چل بسے۔ برکھا دت نے اسے حکومت کی غفلت، سنگدلی اور نااہلی کا نتیجہ قرار دے دیا۔

دلی ، غازی آباد کے بعد سکھ کیمونٹی نے کانپور میں بھی آکسیجن کا لنگر کھول دیا جہاں رنگ، نسل اور مذہبی امتیاز کے بغیر وائرس سے متاثر مریضوں کو آکسیجن کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔

امریکا نے سو ملین ڈالر کی امداد بھارت بھیجنے کے کام کا آغاز کر دیا، محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امداد بھارت پہنچنے کا سلسلہ اگلے ہفتے تک جاری رہے گا۔ ادھر کورونا کی نئی قسم کا بھارتی وائرس فرانس بھی پہنچ گیا ہے۔