زرعی یونیورسٹی فیصل آبا د میں بھنگ کے پودے سے دھاگہ تیار، یارن بحران میں کمی آئے گی

زرعی یونیورسٹی فیصل آبا د میں بھنگ کے پودے سے دھاگہ تیار، یارن بحران میں کمی آئے گی

پاکستان میں اب بھنگ کے پودے سے جینز تیار کی جائے گی، بھنگ کے پودے کے چھالیے کو کاٹن یارن میں ایک خاص تناسب سے استعمال کیا جائے گا۔ زرعی یونیورسٹی کے شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی ماہرین نے بھنگ کی چھال اور کاٹن یارن کو ملا کر دھاگا تیار کرلیا ہے۔

پاکستان میں بھنگ قدرتی طور پر پیدا ہوتی ہے، ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بھنگ کے دھاگے سے بنی جینز کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے اور پاکستان کو اس صنعت سے کروڑوں ڈالر کا فائدہ ہونے کی امید ہے۔

ریسرچرز کا کہنا ہے بھنگ کا پودہ جراثیم کش ہونے کی وجہ سے اس کے دھاگے سے تیار پینٹ بھی جراثیم کش ہے جبکہ مختلف کیمیکلز کی مددسے بھنگ کی چھال کو کاٹن یارن میں مکس کیا گیاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کاٹن یارن کے ساتھ 20 سے 30 فیصد تک بھنگ سے بنا دھاگا استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے یارن بحران پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔