کراچی: (دنیا نیوز) کراچی کی انسداد دہشت گردی کے عدالت نے سرکاری اہلکار پر تشدد کے کیس میں وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی اور چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین فرحان غنی و دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع کردی۔
کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر ملزمان کو پیش کردیا گیا، عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع کرتے ہوئے ملزمان کو 30 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تفتیشی میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔
واضح رہے کہ مدعی مقدمہ کا موقف ہے کہ سروس روڈ پر فائبر کیبل پچھانے کا عمل جاری تھا کہ ملزمان کی جانب سے پہلے تلخ کلامی اور پھر تشدد کیا گیا،سرکاری وکیل کا کہنا تھاکہ کیبل بچھانے کا کام قومی مفاد میں کیاجارہا تھا۔
فرحان غنی نے گزشتہ سماعت میں عدالت کو بتایا تھا کہ میں نے کوئی تشدد نہیں کیا، مجھ پر جھوٹا الزام ہے، میں وہاں سے گزر رہا تھا تو رک کر پوچھا کہ کیا کام کر رہے ہو اور کس کی اجازت سے کر رہے ہو؟ میں ٹاؤن چیئرمین ہوں پوچھنا اور غیر قانونی کام کو روکنا میرا اختیار ہے، میں نے روڈ کی کھدائی کا اجازت نامہ مانگا لیکن انہوں نے نہیں دیا۔
عدالت نے استفسار کیا تھاکہ اس کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ کیسے اور کیوں لگائی گئی؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ مدعی اور سرکاری ملازمین دیگر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس وجہ سے اے ٹی اے لگائی ہے۔