تازہ ترین
  • بریکنگ :- پرویزالہٰی سےصوبائی وزیرقانون راجہ بشارت کی ملاقات
  • بریکنگ :- لاہور:پنجاب اسمبلی میں نئی قانون سازی سےمتعلق مشاورت
  • بریکنگ :- لاہور:سیالکوٹ واقعہ کےحوالےسےبھی تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- عوامی مفادکےقوانین پرعملدرآمدکویقینی بنایاجائے،پرویزالہٰی
  • بریکنگ :- عوام کےجان ومال کی ذمہ دارحکومت ہے،چودھری پرویزالہٰی
  • بریکنگ :- لاہور:لااینڈآرڈرکی صورتحال پرسمجھوتہ نہ کیاجائے،پرویزالہٰی
  • بریکنگ :- سانحہ سیالکوٹ کےذمہ داران کوکیفرکردارتک پہنچایاجائے،پرویزالہٰی

سوشل میڈیا پر میٹر ریڈنگ سے متعلق جعلی خبریں شیئر کی جانے لگیں

Published On 13 July,2021 10:25 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر میٹر ریڈنگ سے متعلق جعلی خبریں شیئر کی جانے لگیں۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پچھلے چند ماہ سے بجلی کا محکمہ عوام کے ساتھ ایک عجیب کھیل بڑی مہارت کیساتھ کھیل رہا ہے، بجلی کے بل پر پچھلے ماہ کے حساب سے ریڈنگ کی تاریخ 22، 23، 24 درج ہوتی ہے لیکن ریڈنگ اگلے ماہ کی یکم کو کی جاتی ہے۔ یعنی اگر اگست میں ریڈنگ 22 کو کی گئی تھی تو ستمبر کی ریڈنگ یکم اکتوبر کو جاتی ہے۔

وائرل ہونے والی پوسٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریڈنگ کی اصل تاریخ میٹر کی تصویر کے اوپر ڈیجیٹل ہندسوں میں درج ہوتی ہے جو کیمرے کے اندر لکھی ہوتی ہے، یعنی بل ایک ماہ کی بجائے 38 یا 40 دن کا بھیجا جاتا ہے اور اس طرح یونٹ زیادہ ہو جانے سے فی یونٹ قیمت بجلی اور سرچارج وغیرہ اصل مصرف سے کہیں زیادہ دینا پڑتے ہیں اور محکمے کی آمدنی بڑھ جاتی ہے، ہر سیکٹر کے ایس ڈی او اور افسران نے اپنا ٹارگٹ پورا کرنا ہوتا ہے۔ جو بجلی چوریک رائی جاتی ہے اس کو ایڈجسٹ کر لیا جاتا ہے۔ عوام سے کی گئی اس چکر بازی اور ظلم میں پورا محکمہ شریک ہے۔

پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ عمل ہر دوسرے ماہ دہرایا جاتا ہے، یعنی عوام کو ایک ماہ سانس لینے کی مہلت دے کر دوسرے ماہ پھر سے تنگ کیا جاتا ہے، تاکہ محکمہ بھی اپنی تاریخوں کا حساب درست کر لے، کوئی پوچھنے والا نہیں ان سے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بنے فیک نیوز الرٹ نامی پیج کی طرف سے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ درست نہیں، اگر ایسا ہوتا تو ایک مہینے کی ریڈنگ چالیس دن کی ہو، تو اگلے مہینے کی ریڈنگ بیس دن کی ہوگی۔ اگر ایسا بار بار ہوتا تو بلوں کے اجرا کی تاریخ ہر مہینے تبدیل ہوتی لیکن ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔