تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 29 ہزار 562 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 21 ہزار 261 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 64 ہزار 564 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹے کےدوران کوروناسےمزید 63 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 135 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 57 ہزار 77 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کورونا کے مزید 2512 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.4 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3 ہزار 610 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 87 لاکھ 97 ہزار 433 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 5117 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 20 ہزار 615 ،سندھ میں 4 لاکھ 49 ہزار 349 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 70 ہزار 738،بلوچستان میں 32 ہزار 722 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد ایک لاکھ 3 ہزار 923 ،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 232 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 33 ہزار 682 ہوگئی،این سی اوسی

خیبرپختونخوامیں آلودگی جانچنے کیلئے نصب کروڑوں روپے کے آلات غیرفعال

Published On 08 July,2021 09:57 am

پشاور: (دنیا نیوز) خیبرپختونخوا میں آلودگی جانچنے کے لئے نصب کروڑوں روپے کے آلات غیر فعال ہو گئے، پشاور میں 8 مختلف مقامات پر نصب آلات صرف ایک سال ہی چل سکے، معاون خصوصی کامران بنگش کہتے ہیں آلات کو فعال کرنے سمیت دیگراضلاع میں بھی نصب کیے جائینگے۔

خیبرپختونخوا میں متعلقہ اداروں کی غیرذمہ داری کے باعث آلودگی جانچنے والے آلات ایک سال چلنے کے بعد غیرفعال ہوگئے، پشاور میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی جانچ کے لیے صوبائی حکومت نے گزشتہ سال 8 مختلف مقامات پر آلات نصب کئے جن کی مدد سے فضا میں موجود مضر صحت عناصر کی نشاندہی کرنا تھا لیکن عدم توجہ کے باعث ائیر کوالٹی ہیلتھ انڈکس سسٹم غیر فعال ہو گیا۔

محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے آلات چیف سیکرٹری آفس، سول سیکرٹریٹ اور لوکل گورنمنٹ سیکرٹریٹ سمیت دیگر مقامات میں نصب تھے، معاون خصوصی کامران بنگش کہتے ہیں صرف پشاور نہیں بلکہ ڈویژنل اور تحصیل سطح پر بھی مزید آلات نصب کرینگے۔

پشاورمیں نصب ائیرکوالٹی ہیلتھ انڈیکس ہوا میں کاربن ڈائی اکسائیڈ، کاربن مونواکسائیڈ سمیت دیگرعناصرکی نشاندہی کرکے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے معلومات فراہم کرتا تھا۔