تازہ ترین
  • بریکنگ :- ضلعی انتظامیہ کےساتھ طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئےسرگرم ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈربہاولپورنےکیمپوں میں دی گئی سہولتوں کاجائزہ لیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈرنےہدایت کی کہ زیادہ ترمریضوں کوطبی سہولتیں دی جائیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- پاک آرمی کی چولستان کےدورافتادہ علاقوں میں مفت طبی سہولتیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- منصوبےکوعملی جامہ پہنانے کیلئے پاک آرمی کی خصوصی ٹیمیں تشکیل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- 2021 میں چنن پیر،کھتری بنگلہ،دین گڑھ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کاانعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- چاہ ناگراں،چاہ ملکانہ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاجاچکاہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کالاپہاڑ،احمدپورایسٹ، منچن آباد اور چشتیاں میں فری میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- 12 ہزارافراد کوفری طبی سہولیات مہیا کی جا چکی ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- تحصیل اسپتال فورٹ عباس میں فری میڈیکل کیمپ 12سے 17 اکتوبرتک جاری ہے
  • بریکنگ :- 15 اکتوبر 2021کوکورکمانڈر بہاولپورنےآئی کیمپ کا دورہ کیا،آئی ایس پی آر

قرآن پاک کی بے حرمتی پر پاکستان کا ناروے سے شدید احتجاج

Last Updated On 24 November,2019 11:49 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے معاملے پر نارویجن سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا۔

دنیا نیوز کے مطابق ناروے کے سفیر کو دفترخارجہ طلبی کر کے پاکستانی عوام کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی سے 1.3 ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہچنی، آزادی اظہار کے نام پر ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

یہ بھی پڑھیں:ناروے: اسلام مخالف مظاہرہ، مسلمان شخص کی بہادری سوشل میڈیا پر وائرل

ترجمان کا کہنا تھا کہ نارویجین حکومت سے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتےہیں۔

دریں اثناء پاکستان نے نارویجین حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے اوسلومیں اپنے سفیر کو ہدایات جاری کردیں۔

واضح رہے کہ پاکستان سے پہلے ترکی بھی واقعے کے خلاف ناروے سے سفارتی سطح پر احتجاج کرچکا ہے اور واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے باور کرا چکا ہے کہ مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لیے ایسے گھناؤنے واقعات کا سدباب کیاجائے۔

دوسری جانب دنیا بھر میں‌ مقدس کتاب کی بے حرمتی پر مسلمان سراپا احتجاج ہیں، پاکستان سمیت مختلف ممالک میں واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے جس ملعون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا.